تہران (کیو این این ورلڈ) ایران اور امریکہ کے درمیان دیرینہ تنازعات کے خاتمے اور مستقل امن کے قیام کے لیے ایک انتہائی اہم اور تاریخی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایرانی خبر ایجنسی اور عرب میڈیا کی رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان ایک جامع 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت کے مسودے پر اصولی اتفاق ہو گیا ہے، جس کی تفصیلات بھی منظر عام پر آ چکی ہیں۔ اس مجوزہ معاہدے کے تحت تہران اور واشنگٹن خطے میں پائیدار امن اور اقتصادی استحکام کے لیے ایک پیج پر آ گئے ہیں۔ امریکی صدر کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان سمیت کئی دیگر اہم ممالک نے بھی اس مجوزہ امن مسودے کی مکمل توثیق اور حمایت کر دی ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس مجوزہ تاریخی معاہدے کا سب سے اہم نکتہ لبنان سمیت خطے کے تمام فعال محاذوں پر فوری اور مستقل جنگ بندی ہے۔ معاہدے کے تحت امریکہ ایران کی خودمختاری کے مکمل احترام اور اس کے داخلی معاملات میں کسی بھی قسم کی عدم مداخلت کا قانونی طور پر پابند ہوگا۔ اس کے علاوہ خطے میں بحری تجارت کی بحالی کے لیے یہ تجویز بھی شامل کی گئی ہے کہ 30 روز کے اندر بحری ناکہ بندی کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا اور آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی تجارت اور توانائی کی بلا تعطل ترسیل کے لیے دوبارہ کھول دیا جائے گا۔
دستاویزات کے مطابق ایرانی معیشت کی بحالی کے لیے ایرانی تیل اور پیٹروکیمیکل برآمدات پر عائد سخت عالمی پابندیوں کو معطل کرنے کی انتہائی اہم تجویز زیر غور ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایران کی تعمیر نو اور معاشی بحالی کے لیے 300 ارب ڈالر مالیت کے مختلف بین الاقوامی منصوبوں پر باہمی تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ معاہدے کے تحت ایران کے مختلف غیر ملکی بینکوں میں منجمد کیے گئے 24 ارب ڈالر مالیت کے اثاثے بھی مرحلہ وار جاری کیے جائیں گے، جبکہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو پرامن رکھنے اور جوہری ہتھیار نہ بنانے کے عزم کا اعادہ کرے گا۔
معاہدے کے دیگر اہم نکات کے تحت جوہری پروگرام اور عائد پابندیوں کے مستقل خاتمے سے متعلق حتمی معاملات کو طے کرنے کے لیے 60 روزہ مذاکراتی مدت مقرر کی جائے گی، اور اس عبوری دورانیے کے دوران امریکہ ایران پر کوئی نئی پابندی عائد نہیں کر سکے گا۔ رپورٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ ایران کا میزائل پروگرام اور خطے میں مزاحمتی گروہوں کی مبینہ حمایت اس مذاکراتی ایجنڈے کا حصہ نہیں ہوں گے، بلکہ حتمی معاہدہ خالصتاً یورینیم افزودگی، پابندیوں میں نرمی اور اقتصادی بحالی کے امور تک ہی محدود رہے گا۔ اس پورے عمل پر سختی سے عملدرآمد کے لیے ایک خصوصی مانیٹرنگ نظام قائم کیا جائے گا اور حتمی معاہدے کی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی باقاعدہ قرارداد کے ذریعے کی جائے گی۔
عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ ایران نے اس معاہدے کو بین الاقوامی قانونی حیثیت دینے کے لیے یہ مطالبہ کیا ہے کہ دستخط کی تقریب کسی یورپی ملک میں منعقد کی جائے۔ اس سلسلے میں قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ ہفتے سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ایران اور امریکہ کے اعلیٰ حکام اس تاریخی دستاویز پر دستخط کریں گے۔ ذرائع کے مطابق اس اہم دستخطی تقریب میں ایک پاکستانی قانونی ٹیم کی شرکت بھی متوقع ہے، تاہم اس حوالے سے ابھی تک کسی سرکاری سطح پر باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔ دوسری جانب معروف بین الاقوامی جریدے بلومبرگ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس امن معاہدے کا باقاعدہ اعلان آئندہ ہفتے ہونے والے جی7 کے اہم اجلاس کے موقع پر متوقع ہے۔