پاکستان خودمختار ملک، کسی کا تابع نہیں: پوتن

ماسکو (کیو این این ورلڈ) روسی صدر ولادیمیر پوتن نے پاکستان کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں واضح کیا ہے کہ پاکستان ایک بڑا خودمختار ملک ہے اور کسی کا تابع نہیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع مذاکرات کے ذریعے حل ہو جائے گا اور دونوں ممالک کسی قابل قبول سمجھوتے تک پہنچ جائیں گے۔

سینٹ پیٹرز برگ اکنامک فورم کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے روسی صدر ولادیمیر پوتن نے پاکستان سے متعلق بھارتی صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنی آزاد خارجہ پالیسی رکھنے والا ایک خودمختار ملک ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس خطے میں استحکام کا خواہاں ہے اور امید رکھتا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری اختلافات مذاکرات کے ذریعے حل ہوں گے۔ پوتن نے کہا کہ روس بھی امریکا اور ایران کے درمیان کسی مثبت معاہدے کا حامی ہے۔

روسی صدر نے چین کے ساتھ تعلقات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ روس اور چین کے درمیان فوجی تعاون طویل عرصے سے جاری ہے اور مستقبل میں بھی برقرار رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کسی تیسرے فریق کے خلاف نہیں بلکہ باہمی مفادات اور علاقائی استحکام کے لیے تعاون کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روس اور چین کے کئی اہم معاملات پر مفادات یکساں ہیں۔

بھارت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے پوتن نے کہا کہ بھارت اور امریکا کے بڑھتے ہوئے روابط کبھی بھی روس اور بھارت کے تعلقات میں رکاوٹ نہیں بنے۔ روس مستقبل میں بھی بھارت کے ساتھ اپنے سفارتی، اقتصادی اور دفاعی تعلقات کو مزید فروغ دیتا رہے گا۔

یوکرین جنگ کے حوالے سے روسی صدر نے کہا کہ روس ایک جانب اپنے اہداف حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ دوسری جانب امن مذاکرات کے لیے بھی تیار ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج یوکرین میں مسلسل پیش قدمی کر رہی ہیں اور یوکرینی فوج کو افرادی قوت کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ پوتن کے مطابق لوہانسک کے علاقے پر روس کا مکمل کنٹرول قائم ہو چکا ہے جبکہ حالیہ عرصے میں روس نے یوکرین کے تقریباً 2440 مربع کلومیٹر علاقے پر قبضہ کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یوکرین کو میزائلوں اور دیگر فوجی سازوسامان کی قلت کا سامنا ہے، تاہم روس اب بھی پرامن مذاکرات اور سیاسی حل کے لیے تیار ہے۔ پوتن نے کہا کہ اگر تمام فریق سنجیدگی کا مظاہرہ کریں تو جنگ کے خاتمے کے لیے پیش رفت ممکن ہے۔

جرمنی کے ساتھ توانائی کے شعبے میں تعاون پر بات کرتے ہوئے روسی صدر نے کہا کہ روس اور یورپی ممالک کی انٹیلی جنس سروسز کے درمیان رابطے جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جرمنی کو نورد اسٹریم پائپ لائن کے ذریعے روسی گیس کی فراہمی کے حوالے سے فیصلہ کرنا ہوگا اور روس جرمنی کو دوبارہ گیس فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

روسی صدر کے حالیہ بیانات کو بین الاقوامی امور، علاقائی سلامتی اور عالمی سفارت کاری کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے، خصوصاً پاکستان، ایران، چین، بھارت اور یوکرین سے متعلق ان کے مؤقف کو عالمی سطح پر توجہ حاصل ہوئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے