مہاراجہ سنت حاضر سروپ سائیں سادھ رام صاحب کے آخری درشن

گھوٹکی (کیو این این ورلڈ / نامہ نگار مشتاق علی لغاری) میرپور ماتھیلو میں ہندو برادری کے معروف روحانی پیشوا سائیں سادھ رام صاحب کا جسدِ خاکی پہنچنے پر پوری فضا سوگوار ہو گئی ہے، جبکہ اپنے محبوب روحانی پیشوا کو آخری الوداع کہنے کے لیے ہزاروں عقیدت مند، مختلف قومپرست جماعتوں کے رہنما اور کارکنان بڑی تعداد میں جمع ہو گئے۔ جیسے ہی جسدِ خاکی شہر میں داخل ہوا تو وہاں موجود عقیدت مندوں نے زبردست عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے ایمبولینس پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں اور “سائیں سادھ رام امر رہے” کے نعرے فضا میں گونج اٹھے، جس دوران ہر آنکھ اشکبار اور ماحول انتہائی غمگین نظر آیا۔

اس موقع پر سائیں سادھ رام صاحب کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے جیئے سندھ محاذ (جسم) کے مرکزی رہنما کمال مہر، جیئے سندھ قومی محاذ (جسقم) شہید بشیر خان گروپ ضلع گھوٹکی کے نائب صدر میر حسن لاشاری، سندھ یونائیٹڈ پارٹی (ایس یو پی) کے رہنما اکرم میتلو، جسقم رہنما اشوک گولڈن، جساف رہنما نعمان مرناس اور دیگر سیاسی و سماجی شخصیات نے خصوصی شرکت کی۔ تمام رہنماؤں نے ایمبولینس پر پھولوں کی چادریں چڑھائیں اور سائیں سادھ رام صاحب کی مذہبی، روحانی اور سماجی خدمات کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔

تقریب کے دوران مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سائیں سادھ رام صاحب نے ہمیشہ محبت، امن اور رواداری کا پیغام دیا اور انہوں نے اپنی پوری زندگی انسانیت کی بے لوث خدمت کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ سائیں سادھ رام صاحب کی وفات نہ صرف ہندو برادری بلکہ پورے سندھ کے لیے ایک بہت بڑا اور ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ اس موقع پر جلوس اور آخری رسومات کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے جبکہ مقامی انتظامیہ اور رضا کاروں نے نظم و ضبط برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ آخری رسومات کے اختتام پر سائیں سادھ رام صاحب کی شانتی اور درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں اور شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ان کے محبت اور بھائی چارے کے پیغام کو ہمیشہ آگے بڑھاتے رہیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے