بیجنگ (کیو این این ورلڈ) چینی صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان بیجنگ میں اہم اور تفصیلی ملاقات ہوئی ہے، جس میں عالمی معاملات، توانائی، دفاع اور اسلحہ معاہدوں سمیت اہم اسٹریٹجک امور پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ ملاقات کے دوران چینی صدر شی جن پنگ نے دنیا کو خبردار کیا کہ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی اور طاقت کی سیاست کے باعث دنیا ایک بار پھر ‘جنگل کے قانون’ کی طرف واپس جانے کے خطرے سے دوچار ہے، جہاں طاقتور ممالک اپنی طاقت کے زور پر یکطرفہ فیصلے مسلط کرتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ خطے میں لڑائی کو فوری اور مکمل طور پر روکنا ناگزیر ہوچکا ہے اور چین و روس کو تمام یکطرفہ غنڈہ گردی اور تاریخ کو پلٹانے والے اقدامات کی ڈٹ کر مخالفت کرنی چاہیے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ ملاقات ایک ایسے نازک وقت میں ہوئی ہے جب امریکا، چین اور روس کے درمیان سیاسی و معاشی کشیدگی عروج پر ہے، جبکہ یوکرین اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔ ملاقات میں چینی صدر شی جن پنگ نے خصوصاً ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فوری اور جامع جنگ بندی وقت کی اہم ضرورت ہے، کیونکہ دوبارہ جنگ یا فوجی کارروائی شروع کرنا مزید خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خطے میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے سفارتی حل کو ترجیح دی جانی چاہیے اور مذاکرات کا سلسلہ برقرار رکھنا انتہائی اہم ہے۔
دوسری جانب روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے اس موقع پر کہا کہ روس اور چین کے تعلقات اس وقت غیر معمولی اور تاریخی سطح پر پہنچ چکے ہیں، جو عالمی استحکام اور بین الاقوامی توازن برقرار رکھنے میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک آزاد خارجہ پالیسی کے لیے پرعزم ہیں اور اب روس اور چین کا تقریباً تمام تر تجارتی لین دین ڈالر کے بجائے اپنی مقامی کرنسیوں (روبل اور یوآن) میں ہو رہا ہے۔ پیوٹن نے چین کو ایک قابل اعتماد توانائی فراہم کنندہ کے طور پر مسلسل تیل اور گیس کی فراہمی جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا اور چینی صدر شی جن پنگ کو اگلے سال روس کے سرکاری دورے کی دعوت دی۔
سیاسی و معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یوکرین اور مشرق وسطیٰ کی جنگوں کے باعث روس اور چین کے تعلقات میں مزید مضبوطی آئی ہے اور دونوں ممالک عالمی سطح پر امریکی اثر و رسوخ کے مقابلے میں مشترکہ حکمت عملی اختیار کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق بیجنگ میں ہونے والے یہ طویل مذاکرات عالمی سیاست، بین الاقوامی توانائی منڈیوں اور خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر دور رس اثرات مرتب کریں گے، جس سے مل کر ایک منصفانہ اور معقول عالمی گورننس سسٹم کی تعمیر میں مدد ملے گی۔