واشنگٹن/تہران(کیو این این ورلڈ) امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ ہوگیا ہے، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر ممکنہ حملے کی دھمکی دی ہے، جبکہ تہران نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی جارحیت کی صورت میں وہ سخت اور حیران کن جواب دے گا۔
وائٹ ہاؤس بال روم کی تعمیری سائٹ کے دورے کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار آ گیا تو وہ سب سے پہلے اسرائیل کو نشانہ بنائے گا، اس لیے ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران پر دو سے تین روز میں، ممکنہ طور پر جمعہ، ہفتہ یا اگلے ہفتے کے آغاز میں حملہ کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق ایران کو ایک بڑا دھچکا دینا ہوگا کیونکہ وقت بہت محدود ہے۔ امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ وہ پیر کے روز ایران پر حملے کے فیصلے کے قریب پہنچ چکے تھے، تاہم سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کی درخواست پر یہ کارروائی مؤخر کر دی گئی۔
دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جارحیت دوبارہ شروع کی گئی تو ایران جنگ کے دوران حاصل کیے گئے تجربات اور حکمت عملی کی بنیاد پر پہلے سے زیادہ سخت اور حیران کن جواب دے گا۔
انہوں نے کہا کہ جنگ کے دوران اربوں ڈالر مالیت کے کئی درجن لڑاکا طیارے تباہ ہوئے اور یہ بھی تصدیق ہوئی کہ ایرانی فوج نے امریکا کے جدید ترین ایف پینتیس لڑاکا طیارے کو بھی مار گرایا۔
ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ سخت بیانات کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور کسی بھی ممکنہ فوجی تصادم کے خدشات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
