رات 10 بجے بجلی بحال نہ ہوئی تو گرڈ اسٹیشن کا محاصرہ کریں گے، ملک زاہد شینواری

لنڈی کوتل(کیو این این ورلڈ/نامہ نگار) تحصیل لنڈی کوتل میں غیر اعلانیہ اور طویل لوڈشیڈنگ کے خلاف عوامی ردعمل شدت اختیار کر گیا، مقامی رہنماؤں نے رات 10 بجے بجلی بحال نہ ہونے کی صورت میں گرڈ اسٹیشن کے محاصرے اور احتجاجی دھرنے کی دھمکی دے دی۔

ڈسٹرکٹ پریس کلب لنڈی کوتل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ملک زاہد شینواری، کلیم اللہ اور سعید شینواری نے کہا کہ تحصیل لنڈی کوتل میں گزشتہ کئی برسوں سے غیر اعلانیہ اور ناروا لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے، تاہم متعدد وعدوں اور یقین دہانیوں کے باوجود عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا گیا۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ رات 10 بجے بجلی کی فراہمی فوری طور پر بحال کی جائے۔ مقررین کا کہنا تھا کہ تحصیل کے مختلف علاقوں میں رات کے اوقات میں بجلی مکمل بند رہتی ہے جس کی وجہ سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں جبکہ لوڈشیڈنگ نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں نے کہا کہ بجلی کی طویل بندش کے باعث عوام کو پانی کے حصول میں بھی شدید مشکلات پیش آرہی ہیں۔ انہوں نے گرڈ اسٹیشن حکام اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ بجلی کے شیڈول میں فوری تبدیلی کرتے ہوئے رات 10 بجے بجلی کی فراہمی کا سابقہ شیڈول بحال کیا جائے۔

مقررین نے خبردار کیا کہ اگر بجلی کی لوڈشیڈنگ میں کمی نہ کی گئی اور رات 10 بجے بجلی بحال نہ ہوئی تو عوام کے ہمراہ احتجاجاً گرڈ اسٹیشن کا محاصرہ کیا جائے گا، دھرنا دیا جائے گا اور پاک افغان شاہراہ کو ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند کردیا جائے گا۔

انہوں نے کمشنر خیبر، ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام سے اپیل کی کہ وہ عوامی مشکلات کا نوٹس لیتے ہوئے گرڈ اسٹیشن حکام کو عملی اقدامات کا پابند بنائیں۔ مقررین کے مطابق ماضی میں بجلی کے دورانیے سے متعلق ایک معاہدہ بھی طے پایا تھا مگر اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔

ملک زاہد شینواری نے کہا کہ رات کی لوڈشیڈنگ کے باعث خواتین، بچے اور بزرگ شدید اذیت میں مبتلا ہیں، اس لیے صوبائی وزیر عدنان قادری فوری مداخلت کرکے عوام کو ریلیف فراہم کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ناروا لوڈشیڈنگ کا خاتمہ نہ کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے مستقل احتجاجی تحریک چلائی جائے گی، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے