ٹھٹھہ(کیو این این ورلڈ/ڈسٹرکٹ رپورٹر بلاول سموں) گھارو میں انسانیت کو جھنجھوڑ دینے والا ایک انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں فلٹر پلانٹ کے علاقے کی رہائشی پندرہ سالہ معصوم غیر مسلم لڑکی مبینہ طور پر “آئس” جیسے خطرناک اور تباہ کن نشے کا شکار بن گئی۔ واقعے کے بعد علاقے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی جبکہ شہریوں اور سماجی حلقوں نے سخت غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔
متاثرہ لڑکی کے اہل خانہ کے مطابق نامعلوم افراد نے مبینہ طور پر اسٹنگ بوتل میں نشہ آور مواد ملا کر لڑکی کو پلایا، جس کے کچھ ہی دیر بعد اس کی طبیعت اچانک بگڑ گئی اور وہ ذہنی توازن کھونے لگی۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ معصوم بچی کی حالت دیکھ کر گھر میں کہرام مچ گیا اور فوری طور پر اسے تشویشناک حالت میں رورل ہیلتھ سینٹر گھارو منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اسے طبی امداد فراہم کی۔
اطلاع ملنے پر پولیس بھی ہسپتال پہنچ گئی اور متاثرہ خاندان کے بیانات قلمبند کیے۔ اہل خانہ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں مبینہ طور پر “آئس” فراہم کرنے والے شخص کے حوالے سے اہم شواہد ملے ہیں، جو پولیس کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔
متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ ایک معصوم بچی، جس کے ہاتھوں میں کتابیں ہونی چاہئیں تھیں، اسے نشے جیسے زہر کا شکار بنانا انسانیت کے خلاف سنگین جرم ہے۔ شہریوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ منشیات فروش عناصر اب معصوم بچوں اور بچیوں تک بھی پہنچ چکے ہیں، جو پورے معاشرے کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
عوامی اور سماجی حلقوں نے سندھ پولیس اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کر کے ملوث عناصر کو فوری گرفتار کیا جائے اور سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ آئندہ کسی اور معصوم زندگی کو اس تباہی سے بچایا جا سکے۔