گھوٹکی ( کیو این این ورلڈ/ نامہ نگار مشتاق علی لغاری) جروار میں باگڑی برادری کے تین رہائشی گھروں میں اچانک خوفناک آگ بھڑک اٹھی، جس کے نتیجے میں علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ آگ لگنے کے اس افسوسناک واقعے میں غریب اور محنت کش خاندانوں کا تمام گھریلو سامان مکمل طور پر جل کر راکھ ہو گیا، جس میں اناج، کپڑے، بستر، برتن، نقدی اور دیگر ضروری اشیاء شامل ہیں۔
تفصیلات کے مطابق آگ اچانک اس وقت لگی جب متاثرہ خاندان اپنے روزمرہ کے کاموں میں مصروف تھے۔ آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے تین گھروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور اس کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ اہلِ خانہ کو اپنا قیمتی سامان نکالنے کا موقع بھی نہ مل سکا۔ واقعے کے دوران بچوں اور خواتین میں شدید سراسیمگی پھیل گئی اور لوگ جانیں بچانے کے لیے گھروں سے باہر نکل کر محفوظ مقامات کی طرف دوڑے۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ آگ کے بلند ہوتے شعلے دور دور سے دیکھے جا سکتے تھے، جس پر مقامی افراد نے متبادل انتظامات نہ ہونے کے باوجود فوری طور پر اپنی مدد آپ کے تحت قابو پانے کی کوشش کی۔ تاہم، پانی کی قلت اور آگ بجھانے کے مناسب آلات نہ ہونے کے باعث آگ پر بروقت قابو نہ پایا جا سکا، جس کے نتیجے میں تینوں مکانات دیکھتے ہی دیکھتے ملبے کا ڈھیر بن گئے۔
ابتدائی اندازوں کے مطابق متاثرہ خاندانوں کو لاکھوں روپے کا مالی نقصان پہنچا ہے اور وہ اس وقت کھلے آسمان تلے بے یار و مددگار بیٹھنے پر مجبور ہیں۔ علاقے میں بنیادی ریسکیو سہولیات کی کمی کے باعث متاثرین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور وہ اس ناگہانی آفت کے بعد سخت موسمی حالات کا مقابلہ کر رہے ہیں۔
متاثرہ خاندانوں نے حکومتِ سندھ، ضلعی انتظامیہ گھوٹکی، مقامی منتخب نمائندوں، سماجی شخصیات اور مخیر حضرات سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے اپیل کی ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر ان کی مالی امداد کی جائے اور رہائش کا بندوبست کیا جائے، کیونکہ فوری حکومتی مدد کے بغیر ان کے لیے زندگی کا دوبارہ آغاز کرنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔