بھارت میں پاکستان سے مذاکرات کی آوازیں بلند

سرینگر/نئی دہلی: (کیو این این ورلڈ) مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ نے پاکستان سے مذاکرات کی حمایت کرتے ہوئے بھارتی انتہاپسند تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ اور بھارتی فوج کے سابق سربراہ کے حالیہ بیانات کو خوش آئند قرار دیا ہے، جبکہ بھارتی خفیہ ادارے “را” کے سابق سربراہ اے ایس دلت نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی بھارتی کوششیں ناکام ہوتی جا رہی ہیں اور مسئلہ کشمیر کا حل صرف مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

سرینگر میں ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے کہا کہ یہ خوش آئند بات ہے کہ بھارت میں اب ایسے حلقوں کی جانب سے بھی پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی حمایت سامنے آ رہی ہے جو ماضی میں سخت مؤقف رکھتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آخرکار کسی کو یہ احساس تو ہوا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں اور خطے کے تنازعات صرف مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے جنرل سیکرٹری دتاتریہ ہوسابالے کے حالیہ بیان کا خیر مقدم کیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بھارت کو ہمیشہ پاکستان سے مذاکرات کے لیے تیار رہنا چاہیے اور بات چیت کے دروازے کبھی بند نہیں کرنے چاہئیں۔

فاروق عبداللہ نے بھارتی فوج کے سابق سربراہ منوج نروانے کے بیان کو بھی اہم قرار دیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے عوام کے مسائل ایک جیسے ہیں اور عام لوگوں کا سیاست سے براہِ راست تعلق نہیں ہوتا۔ فاروق عبداللہ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور خطے میں امن قائم کرنے کے لیے مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں۔

دوسری جانب نئی دہلی میں بھارتی خفیہ ادارے “را” کے سابق سربراہ اے ایس دلت نے ایک برطانوی نشریاتی ادارے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی بھارتی کوششوں کی کہانیاں اب پرانی ہو چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نہ کبھی ٹوٹے گا اور نہ ہی بکھرے گا۔

اے ایس دلت نے کہا کہ پاکستان اس وقت خطے میں اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے اور ایران و امریکا کے درمیان ثالثی کی کوششیں بھی کر رہا ہے، جبکہ ایسا کردار بھارت کو ادا کرنا چاہیے تھا۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ کبھی منقطع نہیں ہونا چاہیے کیونکہ مسئلہ کشمیر سمیت تمام تنازعات کا حل بات چیت میں ہی موجود ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق بھارت کے سیاسی، عسکری اور خفیہ حلقوں سے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے حق میں سامنے آنے والے حالیہ بیانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خطے میں مسلسل کشیدگی اور محاذ آرائی کے بجائے امن، سفارت کاری اور مذاکرات کی ضرورت کو زیادہ شدت سے محسوس کیا جا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے