میرپور ماتھیلو (کیو این این ورلڈ/نامہ نگار مشتاق علی لغاری) تحصیل میرپور ماتھیلو میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے رجسٹریشن اور سروے سینٹر میں مبینہ بدعنوانی، رشوت خوری اور بدانتظامی نے مستحق خواتین کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ فلاحی اور مفت سہولت فراہم کرنے والے اس سرکاری پروگرام کے سینٹر پر آنے والی غریب خواتین کو نہ صرف بنیادی سہولیات سے محروم رکھا جا رہا ہے بلکہ ان کے ساتھ ناروا سلوک بھی برتا جا رہا ہے۔
متاثرہ خواتین اور شہریوں کے مطابق سینٹر پر بیٹھنے کی جگہ، پنکھوں اور پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی سہولیات تک میسر نہیں، جس کے باعث خواتین، بزرگ اور بچے گھنٹوں کھلے آسمان تلے خوار ہونے پر مجبور ہیں۔ الزامات کے مطابق سینٹر کے باہر مخصوص عناصر سرگرم ہیں جو رجسٹریشن کے نام پر خواتین سے 2 ہزار سے 5 ہزار روپے تک رشوت طلب کرتے ہیں، جبکہ رقم نہ دینے والی خواتین کو "کل آنا” جیسے بہانوں سے بار بار چکر لگوائے جاتے ہیں۔
عوامی حلقوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے بتایا کہ بعض مخصوص افراد کے کیسز فوری نمٹا دیے جاتے ہیں جبکہ عام اور مستحق خواتین کو ہراساں کیا جاتا ہے اور ان کے کام میں بلاجواز تاخیر کی جاتی ہے۔ شہریوں نے اس صورتحال کو بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور شفافیت پر سوالیہ نشان قرار دیا ہے۔
مقامی سماجی حلقوں نے حکومتِ پاکستان اور متعلقہ اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ میرپور ماتھیلو بی آئی ایس پی سینٹر کی صورتحال پر فوری توجہ دی جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مبینہ رشوت خوری میں ملوث عناصر کے خلاف اعلیٰ سطحی انکوائری کر کے سخت قانونی کارروائی کی جائے اور سینٹر پر خواتین کے لیے باعزت بیٹھنے کا انتظام، پانی اور کولنگ کی سہولیات فوری طور پر فراہم کی جائیں تاکہ مستحق خواتین کو ان کا حق بلا تعطل مل سکے۔