وزیراعظم یوتھ پروگرام کا جائزہ اجلاس، نئے منصوبوں پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت

اسلام آباد(کیو این این ورلڈ) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت نوجوانوں کو تعلیم، ہنر، روزگار اور کاروبار کے بہتر مواقع فراہم کرنے کیلئے پرعزم ہے اور اس مقصد کیلئے جامع اقدامات جاری ہیں۔

وزیرِ اعظم کی زیر صدارت وزیراعظم یوتھ پروگرام کے جاری منصوبوں پر پیش رفت اور آئندہ برس کیلئے نئے منصوبوں کی تجاویز پر جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں متعلقہ حکام اور چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان سمیت دیگر حکام نے شرکت کی۔

اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ نوجوانوں کو آئی ٹی اور دیگر شعبوں میں عالمی معیار کی تعلیم و تربیت فراہم کرنے کیلئے اقدامات میں مزید اضافہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے ہائر ایجوکیشن کمیشن اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کو ہدایت کی کہ جامعات میں آئی ٹی تعلیم کو عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے جامع لائحہ عمل پیش کیا جائے۔

وزیراعظم نے کہا کہ یوتھ پروگرام کو تکنیکی و فنی تربیت پر خصوصی توجہ دینی چاہیے تاکہ نوجوانوں کیلئے ملکی و غیر ملکی روزگار کے مواقع یقینی بنائے جا سکیں۔ انہوں نے نوجوانوں کیلئے آسان قرضہ اسکیموں کو ایک چھتری تلے لانے اور کم آمدن و متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کیلئے الیکٹرک بائیکس کی فراہمی پر بھی زور دیا۔

اجلاس میں حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ڈیجیٹل یوتھ ہب کے قیام سے اب تک 8 لاکھ سے زائد نوجوان اور 2 ہزار سے زائد ادارے رجسٹر ہو چکے ہیں جبکہ روزانہ 4800 سے زائد درخواستیں موصول ہو رہی ہیں۔

مزید بتایا گیا کہ وزیراعظم یوتھ بزنس اینڈ ایگری لونز کے تحت اب تک 2 لاکھ 87 ہزار سے زائد نوجوانوں کو 122.5 ارب روپے آسان شرائط پر قرض فراہم کیا جا چکا ہے، جس کے نتیجے میں 9 لاکھ سے زائد روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔

حکام کے مطابق قرض اسکیم کے تحت ہر قرض کے بدلے اوسطاً 3 سے زائد نئے روزگار کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ ملک کی پہلی یوتھ اینڈ ایڈولیسنٹ پالیسی، یوتھ روزگار پالیسی، قومی یوتھ کونسل اور اسپورٹس اینڈ ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام بھی شروع کیے جا چکے ہیں۔ اس پروگرام کے تحت رواں سال 4 لاکھ نوجوانوں نے شرکت کی جبکہ کئی ابھرتے کھلاڑی پاکستان سپر لیگ میں بھی سامنے آئے ہیں۔

اجلاس میں مکس مارشل آرٹس، فیفا ایرینا اور ای اسپورٹس سمیت دیگر منصوبوں پر بھی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے