امریکی صدر کا دورۂ چین، ایران جنگ، تجارت اور آبنائے ہرمز پر اہم بات چیت متوقع

واشنگٹن(کیو این این ورلڈ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وفد کے ہمراہ چین کے اہم دورے پر روانہ ہوگئے ہیں جہاں وہ چینی صدر شی جن پنگ سے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، ایران جنگ، عالمی تجارت اور آبنائے ہرمز کے بحران سمیت اہم امور پر بات چیت کریں گے۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق روانگی کے وقت ایئر فورس ون میں صدر ٹرمپ کے ہمراہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ، امریکی تجارتی نمائندہ جیمی سن گریئر، وائٹ ہاؤس کے نائب چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر اور جیمس بلیئر موجود تھے۔

وفد میں ٹرمپ کے بیٹے ایرک ٹرمپ اپنی اہلیہ کے ہمراہ شامل ہیں جبکہ امریکی صدر کے سائنس مشیر مائیکل کریٹسیوس اور چیف آف پروٹوکول مونیکا کراولی بھی وفد کا حصہ ہیں۔

روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ امریکا کو ایران کے معاملے میں کسی کی مدد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ “ہم یہ جنگ یا تو پُرامن طریقے سے یا کسی اور طریقے سے جیت لیں گے۔”

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ چینی صدر شی جن پنگ سے گفتگو کے لیے کئی اہم موضوعات موجود ہیں تاہم ایران ان میں سب سے اہم معاملہ نہیں ہوگا کیونکہ “ایران کی صورتحال ہمارے مکمل کنٹرول میں ہے۔”

انہوں نے کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ ایک اچھی ڈیل چاہتا ہے اور انہیں امید ہے کہ ایسا معاہدہ دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کے خلاف کامیابی امریکا ہی کی ہوگی، چاہے وہ پرامن طریقے سے ہو یا کسی اور انداز میں۔

یاد رہے کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ چین پر زور دے رہے ہیں کہ وہ ایران اور خلیجی صورتحال میں اپنا کردار ادا کرے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھلوانے میں مدد فراہم کرے۔

صدر ٹرمپ نے پاکستان کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے مذاکراتی عمل میں شاندار کردار ادا کیا۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو شاندار شخصیات قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی ثالثی کی کوششیں بہترین ہیں۔

امریکی صدر نے اپنے دورۂ چین کے حوالے سے امید ظاہر کی کہ اس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے