لاہور (کیو این این ورلڈ) پنجاب حکومت نے صوبے بھر کے عوام کے لیے بڑی خوشخبری سناتے ہوئے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر عائد بھاری جرمانوں میں واضح کمی اور قید کی سزائیں ختم کرنے کا باقاعدہ گزٹ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ محکمہ قانون پنجاب کی جانب سے جاری کردہ اس نوٹیفکیشن کے بعد اب ٹریفک قوانین میں کی جانے والی حالیہ ترامیم فوری طور پر نافذ العمل ہو گئی ہیں، جس کا مقصد شہریوں کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔
نئی قانون سازی کے مطابق لائسنسنگ سے متعلق جرائم پر عائد سابقہ سخت سزاؤں کو معطل کر دیا گیا ہے۔ پرانے آرڈیننس کے تحت لائسنس کی خلاف ورزی پر 50 ہزار سے ایک لاکھ روپے تک جرمانہ اور قید کی سزا مقرر تھی، جسے اب نئے بل میں کم کر کے محض 5 ہزار سے 10 ہزار روپے تک کر دیا گیا ہے، جبکہ قید کی سزا مکمل طور پر ختم کر دی گئی ہے۔ اسی طرح لائسنس کے بغیر گاڑی چلانے پر اب پچاس ہزار کی بجائے صرف پانچ ہزار روپے جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔
ون وے ٹریفک کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے بھی بڑی رعایت دی گئی ہے۔ سابقہ قانون میں ون وے کی خلاف ورزی پر 50 ہزار روپے جرمانہ یا 6 ماہ قید کی سزا درج تھی، تاہم اب اس سنگین خلاف ورزی پر جرمانہ کم کر کے 5 ہزار روپے کر دیا گیا ہے اور جیل بھیجنے کی شق بھی ختم کر دی گئی ہے۔ غلط سمت میں گاڑی چلانے (رانگ وے) پر بھی اب چھ ماہ قید کی بجائے صرف پانچ ہزار روپے جرمانہ عائد ہوگا۔
کم عمری میں ڈرائیونگ کرنے والوں کے حوالے سے بھی قوانین میں تبدیلی کی گئی ہے۔ آرڈیننس میں عمر کی حد کی خلاف ورزی پر 50 ہزار روپے جرمانہ اور چھ ماہ قید کی سزا تھی، جسے اب تبدیل کر کے 10 ہزار روپے جرمانہ کر دیا گیا ہے۔ تاہم، ایسی صورت میں پولیس گاڑی کو فوری طور پر ضبط کر لے گی اور گاڑی صرف اس وقت چھوڑی جائے گی جب اس کا مالک یا کوئی مجاز شخص، جس کے پاس کارآمد ڈرائیونگ لائسنس ہو، اسے لینے آئے گا۔
بغیر فٹنس سرٹیفکیٹ چلنے والی گاڑیوں پر سابقہ قانون میں پہلی بار خلاف ورزی پر 50 ہزار اور دوسری بار ایک لاکھ روپے جرمانہ سمیت قید کی سزائیں تھیں، جو اب ختم کر کے صرف 5 ہزار روپے جرمانہ مقرر کی گئی ہیں۔ ایسی گاڑیوں کو صرف انسپکشن سٹیشن تک جانے کی اجازت ہوگی۔ علاوہ ازیں، پبلک سروس گاڑیوں میں حد سے زائد مسافر بٹھانے، چھت پر سواری یا اطراف میں لٹکنے والے مسافروں پر بھی اب 50 ہزار کی بجائے محض 5 ہزار روپے جرمانہ لاگو ہوگا۔