آپریشن بنیان المرصوص اور پاک فوج کی کامیابیاں
تحریر:عبدالرحمان چیمہ
قوموں کی تاریخ میں بعض دن ایسے ہوتے ہیں جو محض وقت کا ایک حصہ نہیں رہتے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے سبق، شعور اور بیداری کا پیغام بن جاتے ہیں۔ 9 مئی بھی پاکستان کی تاریخ کا ایک ایسا ہی اہم دن ہے جس نے پوری قوم کو یہ احساس دلایا کہ اتحاد، نظم و ضبط، قومی شعور اور ریاستی اداروں کا احترام کسی بھی ملک کی بقا اور ترقی کے لیے کتنے ضروری ہیں۔ اس دن پیش آنے والے واقعات نے نہ صرف عوام کو سوچنے پر مجبور کیا بلکہ نوجوان نسل کے سامنے یہ سوال بھی رکھا کہ اختلافِ رائے کو کس حد تک مہذب اور پُرامن انداز میں پیش کیا جانا چاہیے۔
پاکستان ایک عظیم اسلامی ریاست ہے جس کی بنیاد قربانیوں، جدوجہد اور اتحاد پر رکھی گئی۔ جب قوم اپنے نظریے، اپنی افواج اور اپنے قومی مفادات کے گرد ایک مضبوط دیوار کی طرح کھڑی ہو جائے تو اسے “بنیان المرصوص” کہا جاتا ہے، یعنی ایسی سیسہ پلائی ہوئی دیوار جسے کوئی طاقت نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ یہی اتحاد پاکستان کی اصل طاقت ہے اور یہی پیغام 9 مئی کے واقعات ہمیں دیتے ہیں۔
“بنیان المرصوص” عربی زبان کا ایک خوبصورت لفظ ہے جس کا مطلب ہے “سیسہ پلائی ہوئی دیوار”۔ یہ اصطلاح قرآنِ پاک میں استعمال ہوئی ہے اور اس سے مراد ایسی مضبوط قوم ہے جو اتحاد، نظم و ضبط اور باہمی اعتماد کے ساتھ کھڑی ہو۔ جب قوم اور اس کے ادارے ایک دوسرے کے ساتھ ہوں تو کوئی دشمن انہیں نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ پاکستان بھی اسی وقت مضبوط ہو سکتا ہے جب عوام، افواج اور تمام ادارے ایک دوسرے پر اعتماد کریں۔
9 مئی کے واقعات نے پورے ملک میں بے چینی پیدا کر دی۔ احتجاج ہر شہری کا جمہوری حق ہے لیکن جب احتجاج، تشدد، جلاؤ گھیراؤ اور قومی املاک کو نقصان پہنچانے کی شکل اختیار کر لے تو وہ نقصان دہ بن جاتا ہے۔ اس دن کئی اہم مقامات کو نقصان پہنچایا گیا، جس سے عوام کے دلوں میں دکھ اور افسوس پیدا ہوا۔ خاص طور پر شہداء کی یادگاروں کی بے حرمتی نے لوگوں کے جذبات کو شدید ٹھیس پہنچائی۔
ہمارے شہداء وہ عظیم لوگ ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر وطنِ عزیز کی حفاظت کی۔ اگر آج ہم امن اور سکون کی زندگی گزار رہے ہیں تو اس میں ان قربانیوں کا بہت بڑا کردار ہے۔ ایک شہید صرف ایک فرد نہیں ہوتا بلکہ پورے خاندان اور پوری قوم کا فخر ہوتا ہے۔ اسی لیے پاکستانی قوم ہمیشہ اپنے شہداء کو عزت، محبت اور عقیدت کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
وطن کی مٹی گواہ رہنا
ہم وفا نبھائیں گے
اگر ضرورت پڑی تو
جان بھی لٹا جائیں گے
یہ اشعار ہر پاکستانی کے دل کی آواز ہیں۔ پاکستان سے محبت صرف نعروں تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس کا عملی ثبوت بھی دینا چاہیے۔ ملک کی ترقی اور استحکام کے لیے ضروری ہے کہ ہم اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کا احترام کریں۔
9 مئی کے واقعات نے نوجوان نسل کو بھی ایک اہم سبق دیا۔ آج سوشل میڈیا کا دور ہے جہاں سچ اور جھوٹ میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ بعض اوقات لوگ جذبات میں آ کر ایسے اقدامات کر بیٹھتے ہیں جن کا بعد میں افسوس ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ نوجوان ہر خبر پر اندھا اعتماد کرنے کے بجائے تحقیق کریں اور ایسے کسی عمل کا حصہ نہ بنیں جو ملک یا قوم کے لیے نقصان دہ ہو۔
علامہ محمداقبال نے اتحاد اور قومی شعور کے بارے میں فرمایا تھا:
فرد قائم ربطِ ملت سے ہے، تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں
یہ اشعار ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ انسان اکیلا کچھ بھی نہیں، اصل طاقت اتحاد میں ہے۔ جب پوری قوم ایک ہو جائے تو بڑے سے بڑا بحران بھی آسانی سے حل ہو سکتا ہے۔
پاکستان کی افواج نے ہمیشہ ملک کی حفاظت کے لیے عظیم قربانیاں دی ہیں۔ چاہے جنگ ہو، دہشت گردی ہو یا قدرتی آفات، پاک فوج نے ہر مشکل وقت میں عوام کا ساتھ دیا۔ اسی طرح عوام نے بھی ہمیشہ اپنی افواج سے محبت اور اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ دشمن کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ عوام اور فوج کے درمیان فاصلے پیدا کیے جائیں، لیکن پاکستانی قوم نے ہر بار اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔
9 مئی کے بعد ملک میں ایک نئی بحث نے جنم لیا کہ ہمیں اختلافات کو کس طرح مہذب انداز میں حل کرنا چاہیے۔ جمہوریت کا حسن یہی ہے کہ ہر شخص کو اپنی رائے دینے کا حق حاصل ہو، لیکن اس حق کے ساتھ ذمہ داری بھی ضروری ہے۔ اگر قانون کی پاسداری نہ کی جائے تو معاشرے میں انتشار پیدا ہوتا ہے اور ترقی کا عمل رک جاتا ہے۔
اسلام بھی ہمیں امن، بھائی چارے اور صبر کا درس دیتا ہے۔ قرآنِ پاک میں فتنہ و فساد کو بہت بڑا گناہ قرار دیا گیا ہے۔ ایک مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اپنے ملک، اپنے لوگوں اور اپنی ریاست کے لیے خیر خواہی کا جذبہ رکھے، کیونکہ نفرت، تشدد اور تقسیم کسی بھی قوم کو کمزور کر دیتے ہیں۔
یہ وطن تمہارا ہے، تم ہو پاسباں اس کے
یہ چمن تمہارا ہے، تم ہو نغمہ خواں اس کے
یہ اشعار نوجوان نسل کو یاد دلاتے ہیں کہ پاکستان صرف حکومت یا اداروں کا نہیں بلکہ ہم سب کا مشترکہ گھر ہے۔ اگر ہم اس کی حفاظت نہیں کریں گے تو کوئی دوسرا بھی نہیں کرے گا۔
9 مئی نے ہمیں یہ احساس بھی دلایا کہ معاشی استحکام اور قومی یکجہتی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ جب ملک میں بے چینی اور عدم استحکام پیدا ہوتا ہے تو سرمایہ کاری متاثر ہوتی ہے، روزگار کے مواقع کم ہوتے ہیں اور ترقی کا عمل سست پڑ جاتا ہے۔ اس لیے ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک میں امن، استحکام اور مثبت سوچ کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
آج پاکستان کو جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ اتحاد، برداشت، شعور اور باہمی احترام ہے۔ ہمیں اپنے اختلافات کو دشمنی میں تبدیل نہیں کرنا چاہیے۔ اگر ہم ایک دوسرے کو سننا اور سمجھنا سیکھ لیں تو بہت سے مسائل خودبخود حل ہو سکتے ہیں۔ ایک باشعور قوم ہی ترقی کی منزل حاصل کرتی ہے۔