3 مئی عالمی یومِ صحافت: اوکاڑہ پولیس اور انصاف کے دعوے
تحریر:علیم اللہ چودھری
صحافت کو پاکستان میں چوتھا ستون قرار دیا جاتا ہے۔ ریاست میں جرائم کی نشاندہی، عوامی مسائل کی اجاگر کرنے اور مظلوم کی آواز بننے کا کام آسان نہیں بلکہ ایک نہایت ذمہ دار اور خطرناک فریضہ ہے۔ ایک پروفیشنل صحافی انہی کٹھن حالات میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتا ہے، مگر بدقسمتی سے جب اسی صحافی کو انصاف کی ضرورت پڑتی ہے تو اکثر ادارے اس کے لیے مشکلات پیدا کرتے نظر آتے ہیں۔
اوکاڑہ میں عالمی یومِ صحافت کے موقع پر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ڈاکٹر اسد اعجاز ملہی کی جانب سے صحافیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کی تحریر سامنے آئی، جس پر سوالات اٹھتے ہیں کہ کیا عملی طور پر بھی یہی رویہ اختیار کیا جاتا ہے؟ زمینی حقائق اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔
صحافیوں کے مطابق پولیس کی جانب سے جاری کردہ بیشتر خبریں بغیر تصدیق کے صحافتی اداروں کو بھیج دی جاتی ہیں، جنہیں وہ سچ سمجھ کر نشر کر دیتے ہیں۔ تاہم جب کسی خبر یا معاملے کی ذمہ داری اٹھانے یا انصاف لینے کی بات آتی ہے تو صورتحال یکسر مختلف ہو جاتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اوکاڑہ پولیس میں بعض اہلکاروں کی مبینہ غفلت اور بدعنوانی کے باعث انصاف کی فراہمی کے بجائے الٹا مدعی کو ملزم اور ملزم کو مدعی بنانے کی مثالیں سامنے آ رہی ہیں۔
ایک واقعے میں سابق ایس ایچ او تھانہ سٹی رینالہ خورد ملک ارشد نے مبینہ طور پر ایک سب انجینئر مجاہد کی درخواست پر مقدمہ نمبر 1261/24 درج کیا، جسے صحافیوں نے جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیا ہے۔ الزام ہے کہ اس مقدمے میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے اور عدالتی حکم کے باوجود کارروائی کو نظرانداز کیا گیا۔
اسی طرح صحافی چودھری لیاقت علی کے خلاف مقدمہ نمبر 661/25 درج کیا گیا، حالانکہ وہ مبینہ طور پر اپنے صحافتی فرائض انجام دے رہے تھے۔ ان کے مطابق کوریج کے دوران ان پر تشدد اور موبائل فون چھیننے کی کوشش کی گئی، مگر اس کے باوجود الٹا ان کے خلاف مقدمہ درج کر دیا گیا۔
مزید یہ کہ ایک اور کیس میں صحافی عمر ذوالفقار چودھری اور ان کے بھائی عمار ذوالفقار چودھری کے خلاف تھانہ سٹی میں مقدمہ نمبر 333/26 درج کیا گیا، جسے متعلقہ صحافی مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیتے ہیں۔
مقامی صحافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ان تمام مقدمات میں بعض انتظامی افسران کے مبینہ دباؤ کا بھی عمل دخل بتایا جاتا ہے، جس کے باعث پولیس نے غیر جانبداری کے بجائے احکامات پر عمل کرتے ہوئے کارروائیاں کیں۔
آرٹیکل میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ کیا آئین پاکستان کسی کو جھوٹے مقدمات درج کروانے کی اجازت دیتا ہے؟ اور کیا ایسے فیصلوں پر عمل کرنے والے اہلکار یا احکامات دینے والے افسران قانون اور انصاف کے نظام کے سامنے جواب دہ ہوں گے؟
صحافی برادری نے آئی جی پنجاب پولیس، آر پی او ساہیوال اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اوکاڑہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ان تمام مقدمات پر شفاف انکوائری کی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ان کیسز کو مکمل طور پر جھوٹا ثابت کرنے کے لیے تیار ہیں۔
صحافیوں کا مؤقف ہے کہ وہ معاشرے میں جرائم کی روک تھام اور انصاف کی فراہمی کے لیے تو دن رات کام کرتے ہیں، لیکن خود انصاف سے محروم ہیں، جو ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔