پریس کانفرنس یا عملی اقدام؟ پلاسٹک آلودگی کے خاتمے پر سوال برقرار

وی آئی پی پریس کانفرنس، کیا آلودگی ختم ہو جائے گی؟
تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے "صاف ستھرا پنجاب” ویژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے صوبے بھر میں سرکاری مشینری متحرک دکھائی دیتی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ تحرک محض فوٹوسیشن اور پریس ریلیز تک محدود ہے؟ یہ سوال اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب گزشتہ روز ڈیرہ غازی خان میں پلاسٹک کے پولیتھین بیگز کے نقصانات اور ان کے متبادل کے حوالے سے ایک پریس کانفرنس منعقد کی گئی۔ اس تقریب کی صدارت اسسٹنٹ ڈائریکٹر انوائرمنٹ علی رضا اور انسپکٹر پرویز خان برمانی نے کی، تاہم افسوسناک امر یہ رہا کہ عملی اقدامات سے کوسوں دور اس کانفرنس میں ورکنگ جرنلسٹس کو دور رکھا گیا اور محدود حلقے میں بلند و بانگ دعوے کیے گئے۔

عوامی حلقوں میں یہ سوال شدت سے گردش کر رہا ہے کہ کیا ڈیرہ غازی خان جیسے ڈویژنل ہیڈکوارٹر، جہاں ماحولیاتی آلودگی سنگین صورت اختیار کر چکی ہے، وہاں محض ایک بند کمرے کی پریس کانفرنس سے پلاسٹک بیگز کا خاتمہ ممکن ہے؟ قومی خزانے سے ہونے والے اخراجات اور افسران کی پروٹوکول مصروفیات کا مقصد اگر صرف تصویری نمائش رہ جائے تو یہ مہم کبھی بھی اپنے حقیقی اہداف حاصل نہیں کر سکتی۔ مریم نواز شریف کو اس امر کا سنجیدگی سے نوٹس لینا ہوگا کہ ان کے ویژن کو نچلی سطح پر افسران کس طرح کاغذی کارروائی تک محدود کر رہے ہیں۔

حکومت کی جانب سے پلاسٹک بیگز کے خلاف سخت کارروائی کے اعلانات تو کیے گئے ہیں، مگر عملی میدان میں صورتحال تاحال جوں کی توں دکھائی دیتی ہے۔ بازاروں میں پلاسٹک بیگز کی فروخت اور استعمال بلا روک ٹوک جاری ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا محکمہ ماحولیات واقعی جرمانوں اور دکانیں سیل کرنے جیسے اقدامات پر عملدرآمد کر پائے گا یا یہ اقدامات محض انتباہی بیانات تک محدود رہیں گے؟ جب تک زمینی سطح پر واضح اور مسلسل کارروائی نظر نہیں آئے گی، تاجر برادری اس پابندی کو سنجیدگی سے نہیں لے گی۔

پلاسٹک بیگز کے خاتمے میں سب سے بڑی رکاوٹ متبادل کی دستیابی اور اس کی لاگت ہے۔ انتظامیہ نے کپڑے اور کاغذ کے تھیلوں کے استعمال کی بات تو کی ہے، مگر کیا یہ متبادل عام شہری کی پہنچ میں ہیں؟ ایک ریڑھی بان یا دہاڑی دار مزدور کے لیے مہنگا کپڑے کا تھیلا خریدنا آسان نہیں۔ اگر حکومت متبادل سستا اور بآسانی دستیاب بنانے میں ناکام رہی تو یہ مہم عوامی مشکلات اور بے چینی میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔ محض اعلانات کے بجائے عملی سہولت فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

کسی بھی سرکاری مہم کی کامیابی مستقل مزاجی اور تسلسل سے مشروط ہوتی ہے۔ ماضی میں بھی کئی مہمات کا آغاز ہوا مگر چند روزہ سرگرمیوں اور فوٹوسیشنز کے بعد وہ دم توڑ گئیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا اسسٹنٹ ڈائریکٹر انوائرمنٹ اور ان کی ٹیم اس مہم کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھ پائے گی؟ اگر محکمہ ماحولیات دیگر متعلقہ اداروں، بشمول میونسپل کارپوریشن اور ضلعی انتظامیہ، کے ساتھ مربوط حکمت عملی اختیار نہیں کرتا تو یہ مہم بھی وقتی سرگرمی بن کر رہ جائے گی۔

شہریوں کا کردار اس مہم میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے، مگر انہیں اعتماد میں لینے کے لیے شفافیت ناگزیر ہے۔ جب پریس کانفرنس سے ورکنگ جرنلسٹس کو ہی دور رکھا جائے گا تو عوام تک اصل حقائق کیسے پہنچیں گے؟ میڈیا کا کردار صرف تعریف تک محدود نہیں بلکہ خامیوں کی نشاندہی بھی اس کی ذمہ داری ہے۔ ڈیرہ غازی خان کی انتظامیہ کا طرزِ عمل یہ تاثر دیتا ہے کہ یا تو حقائق چھپائے جا رہے ہیں یا پھر کوئی واضح عملی منصوبہ موجود نہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو چاہیے کہ وہ ان پریس کانفرنسز اور فوٹوسیشنز کا باقاعدہ آڈٹ کروائیں اور افسران سے یہ پوچھیں کہ پلاسٹک بیگز کے خلاف مہم کے تحت اب تک کتنی دکانیں سیل ہوئیں، کتنے جرمانے کیے گئے اور عملی طور پر استعمال میں کتنی کمی آئی؟ عوام کے ٹیکس سے جمع ہونے والا خزانہ صرف نمائشی سرگرمیوں پر خرچ نہیں ہونا چاہیے۔ اگر واقعی پنجاب کو صاف ستھرا بنانا مقصود ہے تو فائلوں سے نکل کر میدانِ عمل میں ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے، ورنہ ماحولیاتی آلودگی کے سائے بدستور گہرے ہوتے رہیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے