پیٹرو ڈالر: عالمی معاشی اجارہ داری اور پاکستان

پیٹرو ڈالر اور پاکستان
تحریر ۔سید نذیر شاہ
پیٹرو ڈالر کا لفظ سننے میں جتنا بھاری بھرکم اور مشکل لگتا ہے، اس کی حقیقت اتنی ہی سادہ اور عام فہم ہے۔ آسان الفاظ میں اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ دنیا میں جب بھی تیل خریدا یا بیچا جاتا ہے تو اس کی قیمت زیادہ تر امریکی ڈالر میں طے کی جاتی ہے۔ چاہے آپ یہ تیل سعودی عرب سے لیں، ایران سے خریدیں یا روس سے، اس کا بل عموماً ڈالر میں ہی بنتا ہے۔ لیکن یہ کوئی قدرتی اصول نہیں بلکہ ایک خالص سیاسی سودا اور عالمی معاہدہ ہے جو تقریباً پچاس سال پہلے طے پایا تھا اور جس نے پوری دنیا کی معاشی تقدیر بدل کر رکھ دی۔

اس پوری کہانی کو سمجھنے کے لیے ہمیں 1960 سے شروع کرنا ہوگا جب عراق کے شہر بغداد میں اوپیک (OPEC) نامی تنظیم کی بنیاد رکھی گئی۔ اس سے پہلے صورتحال یہ تھی کہ تیل نکالنے والے ممالک اپنی ہی زمین سے نکلنے والی دولت پر اختیار نہیں رکھتے تھے بلکہ بڑی مغربی کمپنیاں، جنہیں ” سیون سسٹرز ” کہا جاتا تھا، اپنی مرضی سے قیمتیں طے کرتی تھیں اور ان ملکوں کو منافع کا صرف ایک معمولی حصہ ملتا تھا۔ اوپیک کا قیام دراصل ان ملکوں کی ایک متحدہ آواز تھی تاکہ وہ اپنی قدرتی دولت کی قیمت خود طے کر سکیں اور متحد ہو کر عالمی منڈی میں اپنا لوہا منوا سکیں۔اوپیک نے تیل پیدا کرنے والے ملکوں ایران، عراق، کویت، سعودی عرب اور وینزویلا کو ایک پلیٹ فارم پر تو اکٹھا کر دیا، لیکن اصل معاشی کھیل اکتوبر 1973 میں شروع ہوا۔ جب مصر اور شام نے اسرائیل کے خلاف جنگ شروع کی تو امریکہ نے کھل کر اسرائیل کی فوجی مدد کی۔ اس کے جواب میں سعودی عرب کے شاہ فیصل نے ایک جرات مندانہ فیصلہ کیا اور اسرائیل کی حمایت کرنے والے ممالک، خاص طور پر امریکہ اور ہالینڈ کو تیل کی فراہمی مکمل طور پر بند کر دی۔

اس فیصلے سے تیل کی قیمتیں اچانک چار گنا تقریباً 3 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 12 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئیں اور امریکہ کو احساس ہوا کہ اگر تیل کی منڈی اس کے اثر و رسوخ سے باہر ہو گئی تو اس کی معیشت ریت کی دیوار ثابت ہو سکتی ہے۔چنانچہ 1974 میں امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ایک تاریخی دفاعی اور معاشی معاہدہ ہوا۔ طے یہ پایا کہ سعودی عرب اپنا سارا تیل صرف اور صرف امریکی ڈالر میں فروخت کرے گا اور اس سے حاصل ہونے والی رقم کو دوبارہ امریکی بینکوں یا سرکاری بانڈز میں سرمایہ کاری کی شکل میں رکھے گا۔ اس کے بدلے میں امریکہ نے سعودی عرب کو مکمل فوجی تحفظ، جدید ہتھیار اور سیاسی حمایت کی ضمانت دی چونکہ سعودی عرب اوپیک کا سب سے بااثر رکن تھا، اس لیے باقی ممالک بھی اسی ڈگر پر چل پڑے اور یوں ڈالر عالمی تجارت کا ‘ سرکاری ٹکٹ’ بن گیا۔اس نظام نے امریکہ کو دنیا کا ” سپربینکر "اور ڈالر کوعالمی کرنسی بنا دیا ،۔ جب ہر ملک کے لیے تیل خریدنے کی خاطر ڈالر رکھنا مجبوری بن گیا، تو امریکہ کو یہ فائدہ ہوا کہ وہ صرف کاغذ کے نوٹ چھاپ کر دنیا بھر سے حقیقی اشیاء حاصل کرنے لگا اسے معاشی زبان میں ” پیٹرو ڈالر ری سائیکلنگ ” کہتے ہیں، جہاں ڈالر تیل کے بدلے امریکہ سے نکلتا ہے اور گھوم پھر کر واپس وہیں پہنچ جاتا ہے۔

حالیہ عالمی کشیدگیوں نے اس مالیاتی نظام کی کمزوریوں کو پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔ فروری 2026 میں جب اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو اس کے تباہ کن اثرات صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہے بلکہ پوری دنیا کی معیشت تک پھیل گئے۔ تہران اور اصفہان میں بمباری کے جواب میں جب ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا، جہاں سے دنیا کی ضرورت کا تقریباً پانچواں حصہ تیل گزرتا ہے، تو عالمی منڈی میں ایک دم کھلبلی مچ گئی۔اس بندش کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتیں دیکھتے ہی دیکھتے 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئیں، جس نے تیل درآمد کرنے والے ممالک کی معیشتوں پر بوجھ ڈال دیا۔ پاکستان جیسے ممالک کے لیے، جو پہلے ہی ڈالر کی کمی کا شکار ہیں، تیل کی ان بڑھتی ہوئی قیمتوں نے ملکی اخراجات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے، جس سے عام آدمی کی زندگی براہِ راست متاثر ہو رہی ہے۔ یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ جب تک تیل کی تجارت اور عالمی نظام صرف ایک ہی راستے یا کرنسی سے جڑا رہے گا، تب تک دنیا ایسے کسی بھی بحران کی صورت میں معاشی طور پر غیر محفوظ رہے گی۔

پیٹرو ڈالر نظام کا سب سے بڑا بوجھ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک نے اٹھایا ہے۔ ہمیں تیل خریدنے کے لیے پہلے سخت محنت سے ڈالر کمانا پڑتا ہے، اور جیسے ہی عالمی منڈی میں تیل کی قیمت ایک ڈالر بھی بڑھتی ہے یا ڈالر مضبوط ہوتا ہے، ہمارے لیے دوہرا جھٹکا پیدا ہو جاتا ہے روپیہ گر جاتا ہے اور پٹرول مہنگا ہو جاتا ہے، جس کا سیدھا اثر عام آدمی کی جیب پر پڑتا ہے۔پاکستان جیسے ممالک جو پہلے ہی زرمبادلہ کے ذخائر کے دباؤ میں رہتے ہیں، ان کے لیے عالمی حالات میں ذرا سی تبدیلی بھی براہِ راست مہنگائی، مہنگے پٹرول اور بڑھتے ہوئے مالی بوجھ کی صورت میں سامنے آتی ہے۔ حال ہی میں برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ممالک میں بھی قیمتیں بڑھیں، مگر پاکستان میں اس کے اثرات کہیں زیادہ شدید رہے جہاں مہنگائی کی ایک نئی لہر نے عام آدمی کی زندگی کو مشکل بنا دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ جنگ بڑی طاقتوں کے درمیان تھی، مگر اس کا اصل بل ان ممالک کے عوام نے بھر رہےہیں جن کا اس تنازع سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں تھا۔
پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں امریکی ڈالر کو سب سے زیادہ اہمیت اس لیے دی جاتی ہے کیونکہ موجودہ عالمی مالیاتی نظام میں تیل کی خریداری، بین الاقوامی تجارت اور قرضوں کی ادائیگی زیادہ تر ڈالر میں ہی ہوتی ہے۔ پیٹرو ڈالر نظام نے ڈالر کو دنیا کی سب سے بڑی ضرورت بنا دیا ہے، یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو بھی اپنی بیرونی ادائیگیوں کے لیے اسی کرنسی پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ چونکہ پاکستان تیل و گیس اور دیگر بڑی اشیاء زیادہ تر ڈالر میں خریدتا ہے، اس لیے ہمارے پاس ڈالر کا ہونا ایک عملی مجبوری بن جاتا ہے۔ اگر یہ ذخائر کم ہو جائیں تو تیل اور دیگر ضروری درآمدات منگوانا مشکل ہو جاتا ہے اور پوری معیشت جام ہونے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ آئی ایم ایف اور عالمی بینک جیسے اداروں کے قرضے بھی ڈالر میں ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے ڈالر کو ریزرو کرنسی کے طور پر رکھنا پڑتا ہے۔

اس صورتحال میں پاکستان کے لیے اب صرف ایک ہی راستہ بچا ہے کہ وہ ڈالر پر اپنا انحصار بتدریج کم کرے۔ اگرچہ ایک دم ڈالر سے پیچھا چھڑانا ممکن نہیں، مگر اپنی معیشت کو بچانے کے لیے متبادل راستے ڈھونڈنا لازم ہو چکا ہے۔ اگر پاکستان چین کے ساتھ ‘یوان’ میں، روس کے ساتھ ‘روبل’ میں اور ایران کے ساتھ ‘ بارٹر ٹریڈ ‘ یعنی مال کے بدلے مال کے ذریعے تجارت کرے تو ہم عالمی معاشی جھٹکوں سے کافی حد تک محفوظ رہ سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ہمیں اپنے بینکاری نظام کو جدید بنانا ہوگا اور پڑوسیوں کے ساتھ ‘ کرنسی سویپ ‘ جیسے معاہدے کرنے ہوں گے تاکہ مقامی کرنسیوں میں لین دین آسان ہو سکے۔

پیٹرو ڈالر کے نظام نے پچھلے پچاس سال تک دنیا کو اپنے قبضے میں رکھا، لیکن اب عالمی طاقت تقسیم ہو رہی ہے اور ڈالر کی اجارہ داری ٹوٹ رہی ہے۔ آنے والے وقت میں وہی ملک کامیاب ہوگا جو بدلتے ہوئے حالات کو بھانپ کر اپنی معاشی پالیسی میں تنوع پیدا کرے گا۔ پاکستان اگر بروقت فیصلے کرے اور اپنے تجارتی راستے مختلف کرنسیوں کی طرف موڑ دے، تو وہ نہ صرف خود کو عالمی بحرانوں سے بچا سکتا ہے بلکہ ایک حقیقی خودمختار معیشت کی بنیاد بھی رکھ سکتا ہے۔ بصورت دیگر، صرف ڈالر کے بھروسے بیٹھے رہنے سے ہر نیا عالمی بحران ہماری معاشی دیواروں کو مزید کمزور کرتا رہے گاجس کا سب سے زیادہ اثر غریب طبقے پر پڑتا ہے، جس کے لیے پہلے ہی زندگی گزارنا مشکل ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے