حیدرآباد (کیو این این ورلڈ)سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے پوتے اور میر مرتضیٰ بھٹو کے صاحبزادے ذوالفقار بھٹو جونیئر نے کہا ہے کہ وہ اصولی سیاست پر یقین رکھتے ہیں اور ایسے افراد یا جماعتوں کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتے جنہیں وہ ماضی میں قاتل قرار دے چکے ہیں۔
حیدرآباد میں ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ "میں منافق نہیں ہوں کہ جن کو قاتل کہوں اور پھر ان سے جا کر مل جاؤں”، انہوں نے واضح کیا کہ وہ کسی بھی سیاسی جماعت میں شامل نہیں ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ ان کے پاس وہ وسائل نہیں جو بڑی سیاسی جماعتوں کو حاصل ہوتے ہیں، تاہم ان کے پاس محنتی اور مخلص لوگ موجود ہیں، اور اگر وقت آیا تو وہ انتخابات میں حصہ لینے پر غور کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ "ذوالفقار علی بھٹو رابطہ کمیٹی” قائم کی گئی ہے جس کا مقصد ہم خیال افراد کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ مفاد کی سیاست نہیں کریں گے اور نہ ہی روایتی سیاستدانوں کی طرح اپنا مؤقف تبدیل کریں گے۔
ذوالفقار بھٹو جونیئر نے سندھ پولیس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ محکمے میں چند لوگ ہی عوام کے لیے کام کرتے ہیں جبکہ باقی زیادہ تر امیر طبقے کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔
اپنے والد میر مرتضیٰ بھٹو کے قتل کے مقدمے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے خاندان کو آج تک انصاف نہیں ملا اور وہ مسلسل انصاف کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مقدمہ اب تک حل نہیں ہو سکا جو انصاف کے نظام پر سوالیہ نشان ہے۔
سیاسی حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہ پیر پگارا کی حمایت کریں گے کیونکہ وہ ان کے والد کے قریبی دوست رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اگر انتخابی اتحاد بنتا ہے تو اس میں شامل ہونے میں کوئی مسئلہ نہیں، لیکن وہ کسی جماعت میں باقاعدہ شمولیت اختیار نہیں کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ اصولوں پر قائم رہیں گے اور کسی دباؤ یا مفاد کی بنیاد پر اپنا مؤقف تبدیل نہیں کریں گے۔