واشنگٹن (کیو این این ورلڈ)امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کی جانب سے صحافیوں کے اعزاز میں منعقدہ سالانہ عشائیے کے دوران فائرنگ کے سنسنی خیز واقعے نے نہ صرف تقریب کا ماحول درہم برہم کر دیا بلکہ دنیا کی سپر پاور کی سکیورٹی پر بھی بڑے سوالات کھڑے کر دیے۔ واقعے کے وقت امریکی صدر Donald Trump، خاتون اول Melania Trump، نائب صدر اور کابینہ کے اہم ارکان بھی تقریب میں موجود تھے، تاہم سیکرٹ سروس کی فوری اور مؤثر کارروائی کے باعث تمام اہم شخصیات محفوظ رہیں جبکہ حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا۔
یہ واقعہ 25 اپریل 2026 کی شب واشنگٹن ہلٹن ہوٹل میں پیش آیا، جہاں وائٹ ہاؤس کوریسپونڈنٹس ڈنر جاری تھا۔ یہ تقریب امریکی سیاسی و صحافتی حلقوں کی اہم ترین تقریبات میں شمار ہوتی ہے، جس میں صدر، اعلیٰ حکام، سفارتکاروں اور سینکڑوں صحافیوں کی شرکت ہوتی ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق تقریب اپنے عروج پر تھی کہ اچانک فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں، جس کے بعد بال روم میں شدید افراتفری پھیل گئی۔ مہمانوں نے جان بچانے کے لیے میزوں کے نیچے پناہ لی جبکہ کچھ افراد کو فوری طور پر ہال سے باہر منتقل کیا گیا۔ سکیورٹی اہلکاروں نے چند ہی لمحوں میں صورتحال کو قابو میں لے لیا اور صدر ٹرمپ کو اسٹیج سے ہٹا کر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق فائرنگ کے دوران سات سے آٹھ گولیاں چلنے کی آوازیں سنی گئیں۔ اس دوران ایک سیکرٹ سروس اہلکار گولی لگنے سے زخمی ہوا، تاہم اس نے بلٹ پروف جیکٹ پہن رکھی تھی جس کے باعث اس کی جان بچ گئی۔ اسے فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔
امریکی تحقیقاتی ادارے FBI اور میٹروپولیٹن پولیس نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مشتبہ حملہ آور کو موقع سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق حملہ آور کی شناخت 30 سالہ کول ایلن کے طور پر ہوئی ہے جس کا تعلق کیلیفورنیا سے بتایا جا رہا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق ملزم کے پاس ایک شاٹ گن، ایک ہینڈ گن اور متعدد چاقو موجود تھے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ بڑے پیمانے پر حملے کی نیت سے آیا تھا۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حملہ آور اکیلا تھا، تاہم اس کے پس منظر اور ممکنہ محرکات کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
صدر ٹرمپ نے بعد ازاں وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حملہ آور ایک "انتہائی بیمار انسان” ہے اور ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حملہ آور نے تقریباً پچاس گز کے فاصلے سے دوڑ کر حملے کی کوشش کی، تاہم سکیورٹی اہلکاروں نے بروقت ردعمل دیتے ہوئے اسے قابو میں کر لیا۔
صدر نے یہ بھی انکشاف کیا کہ تقریب سے قبل سکیورٹی اداروں کو کسی ممکنہ خطرے کی اطلاع نہیں تھی۔ ان کے مطابق یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دنیا کے طاقتور ترین عہدے پر فائز ہونا کس قدر خطرناک ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ تصور بھی نہیں کر سکتے کہ صدارت سے زیادہ خطرناک کوئی پیشہ ہو سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے ماضی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو برسوں میں یہ پہلا موقع نہیں جب کسی ریپبلکن رہنما کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہو۔ انہوں نے اپنی ذات پر ہونے والی دو سابقہ حملوں کی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔
واقعے کے فوری بعد سیکرٹ سروس نے پورے ہوٹل کو گھیرے میں لے لیا اور اسے عارضی طور پر کرائم سین قرار دے دیا گیا۔ مہمانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا جبکہ صحافیوں کو بعد ازاں وائٹ ہاؤس منتقل کر دیا گیا جہاں وہ صدر کے بیان کا انتظار کرتے رہے۔
واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج اور تصاویر بھی منظر عام پر آئی ہیں جن میں مبینہ حملہ آور کو ہوٹل کے بال روم کی جانب دوڑتے ہوئے اور فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ سکیورٹی اہلکار فوری طور پر اپنے ہتھیار نکالتے اور ردعمل دیتے نظر آتے ہیں۔ ایک تصویر میں حملہ آور کو زمین پر قابو کیا گیا دکھایا گیا ہے۔
سیکرٹ سروس کے ڈائریکٹر شان کیرن نے اپنے اہلکاروں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی ٹیم نے پیشہ ورانہ مہارت اور بہادری کا مظاہرہ کیا اور ایک ممکنہ بڑے سانحے کو ٹال دیا۔ انہوں نے بتایا کہ زخمی اہلکار کی حالت بہتر ہے اور اسے طبی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔
دوسری جانب سکیورٹی ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس کوریسپونڈنٹس ڈنر کو واشنگٹن کی محفوظ ترین تقریبات میں شمار کیا جاتا ہے، جہاں داخلے سے قبل مہمانوں کو ہوائی اڈوں جیسی سخت سکیورٹی جانچ سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس کے باوجود اس نوعیت کا واقعہ پیش آنا سکیورٹی نظام پر سوالیہ نشان ہے۔
صدر ٹرمپ نے تقریب کے منتظمین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اعلان کیا کہ یہ عشائیہ آئندہ 30 دنوں میں دوبارہ منعقد کیا جائے گا اور اس بار اسے پہلے سے زیادہ بڑے اور بہتر انداز میں منعقد کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ تمام خطرات کے باوجود وہ معمول کی زندگی گزارنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایسے واقعات کو اپنے فرائض کی راہ میں حائل نہیں ہونے دیں گے، تاہم انہوں نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ اس واقعے سے خاتون اول میلانیا ٹرمپ شدید صدمے میں ہیں۔
واقعے کے بعد واشنگٹن میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے حملہ آور کے ممکنہ نیٹ ورک، محرکات اور ذہنی حالت کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔ یہ واقعہ نہ صرف امریکا بلکہ عالمی سطح پر بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے اور مستقبل میں اعلیٰ سطحی تقریبات کی سکیورٹی حکمت عملی پر گہرے اثرات مرتب کرنے کا امکان ہے۔
تصاویر بشکریہ بی بی سی اردو









