سیالکوٹ (کیو این این ورلڈ/ بیورو چیف مدثر رتو) اسسٹنٹ کمشنر پسرور سدرہ ستار کے خلاف سوشل میڈیا پر زیرِ گردش منفی اور گمراہ کن ویڈیو کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ کسی بھی سرکاری افسر کے خلاف بغیر تصدیق شدہ معلومات پر مبنی مواد کی اشاعت نہ صرف اخلاقی اقدار کے منافی ہے بلکہ یہ عمل قانونی مواخذے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

سدرہ ستار نے بطور اسسٹنٹ کمشنر اپنی تعیناتی کے بعد سے تمام فرائض قانون اور ضابطے کے مطابق سرانجام دیے ہیں۔ انہوں نے کسی بھی قسم کے سیاسی یا سماجی دباؤ کو قبول کیے بغیر اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں نبھائی ہیں، خصوصاً سیلابی صورتحال کے دوران انہوں نے عملی میدان میں رہتے ہوئے جس جرات اور پیشہ ورانہ صلاحیت کا مظاہرہ کیا وہ قابلِ ستائش ہے۔

یہ امر واضح کیا جاتا ہے کہ کسی بھی خاتون افسر کی ذاتی زندگی کو بنیاد بنا کر کردار کشی کرنا نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ پاکستان کے مروجہ قوانین، بشمول ہتکِ عزت اور سائبر کرائم ایکٹ کے تحت قابلِ سزا جرم ہے۔ ایسے عناصر جو سوشل میڈیا پر جھوٹا اور من گھڑت مواد پھیلا کر کسی کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں، ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی فرد کو اسسٹنٹ کمشنر کے سرکاری امور سے متعلق کوئی شکایت ہے تو وہ متعلقہ فورمز پر قانونی طریقہ کار کے مطابق رجوع کرے، تاہم بلاجواز الزامات اور ذاتی حملوں سے سختی سے اجتناب کیا جائے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ صبا اصغر کی ہدایات کے مطابق سدرہ ستار اپنی ذمہ داریاں قانون و ضابطے کے تحت بخوبی انجام دے رہی ہیں۔ تمام شہریوں سے گزارش ہے کہ وہ ذمہ دارانہ رویہ اختیار کریں اور کسی بھی غیر مصدقہ مواد کو شیئر کرنے سے گریز کریں، بصورتِ دیگر وہ قانونی نتائج کے خود ذمہ دار ہوں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے