رینالہ خورد (کیو این این ورلڈ/نامہ نگار) یونیورسٹی آف اوکاڑہ میں ڈاکٹر سینٹا سلر بلاک کا باضابطہ افتتاح کر دیا گیا۔ افتتاحی تقریب میں یونیورسٹی آف اوکاڑہ کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سجاد مبین نے سول سوسائٹی کے نمائندوں اور جامعہ کے اساتذہ کے ہمراہ شرکت کی اور بلاک کا افتتاح کیا۔ مذکورہ عمارت کو قبل ازیں پی ایچ ڈی بلاک کے نام سے جانا جاتا تھا۔

یونیورسٹی انتظامیہ نے اوکاڑہ کی دیہی خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کے لیے نمایاں کردار ادا کرنے والی جرمن مصورہ، فلسفی اور ماہرِ بشریات ڈاکٹر سینٹا سلر کے اعزاز میں اس تعلیمی بلاک کو ان کے نام سے منسوب کرنے کا فیصلہ کیا۔ ڈاکٹر سینٹا سلر "ٹھٹھہ کیڈونا” کے نام سے معروف ایک کاروباری منصوبے کے ذریعے دیہی خواتین کی فلاح و بہبود اور معاشی خودمختاری کے لیے خدمات انجام دیتی رہی ہیں۔
تقریب میں اوکاڑہ کی سول سوسائٹی اور یونیورسٹی فیکلٹی کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ معزز مہمانوں میں سابق پارلیمانی سیکریٹری داخلہ کیپٹن (ر) مجتبیٰ کھرل، جرمن نشریاتی ادارے سے وابستہ صحافی امجد علی، معروف سماجی شخصیت قیصر بخشی اور گاؤں ٹھٹھہ غلامکا ڈیروکا کے بزرگ رائے اکبر علی شامل تھے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سجاد مبین نے کہا کہ معیاری اور ہنرمندانہ تعلیم کے ذریعے خواتین کو بااختیار بنانا یونیورسٹی انتظامیہ کے وژن کا بنیادی حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ میں زیر تعلیم طلبہ کا تقریباً ستر فیصد حصہ طالبات پر مشتمل ہے، جس سے خواتین کی تعلیم اور ترقی کے لیے ادارے کے عزم کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹر سینٹا سلر کی خدمات کا اعتراف اور ان کے نام سے تعلیمی بلاک کی نسبت اسی وژن کی عملی عکاسی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر سینٹا سلر نے اوکاڑہ کی دیہی خواتین کی معاشی ترقی اور خود انحصاری کے لیے جو خدمات انجام دی ہیں وہ قابلِ تحسین ہیں اور نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر سینٹا سلر کو حال ہی میں پاکستان اور اس کے عوام کے لیے نمایاں خدمات کے اعتراف میں "ستارۂ پاکستان” ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ہے، جسے ان کی سماجی اور فلاحی خدمات کا بین الاقوامی اعتراف قرار دیا جا رہا ہے۔