اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر چین، روس، قطر اور ایران نے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی ہے تاکہ صورتحال کو فوری طور پر قابو میں لایا جا سکے اور خطے میں امن و استحکام قائم رہے۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس تنازع پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چین صورتحال کو ٹھنڈا کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ چین اپنے سفارتی ذرائع کے ذریعے پاکستان اور افغانستان کے درمیان ثالثی کی کوشش کر رہا ہے تاکہ دونوں ممالک پرامن اور متفقہ حل تک پہنچ سکیں۔

چین کے علاوہ قطر اور ایران نے بھی اس معاملے میں ثالثی کی پیشکش کی ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان اپنے اختلافات کو بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے حل کریں اور ایران اس عمل میں سہولت فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

روسی وزیر خارجہ نے بھی کہا کہ اگر دونوں ممالک درخواست کریں تو روس ثالثی کے لیے غور کر سکتا ہے اور خطے میں امن قائم کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گا۔

اس کے علاوہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھی حالیہ کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا اور پاکستان و افغانستان دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ عالمی قانون کے مطابق اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کریں۔

سفارتی حلقوں کے مطابق، بین الاقوامی ثالثی کی یہ پیشکش اس تناظر میں اہم ہے کہ دونوں ممالک کی سرحدی کشیدگی نے خطے میں سیاسی اور سیکیورٹی توازن پر اثر ڈالنا شروع کر دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چین اور ایران کی کوششوں کے ذریعے جلد دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی مذاکرات کا آغاز ممکن ہو سکتا ہے، تاکہ مسلح جھڑپوں اور سرحدی کشیدگی کے خطرات کم کیے جا سکیں۔

اس کشیدگی کے دوران، پاکستان کی سرحدی اور دفاعی ادارے چوکس ہیں اور افغان طالبان رجیم کی کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی مکمل تیاری کر رہے ہیں۔ عالمی ثالثی کی پیشکش کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ خطے میں پرامن اور مشترکہ حل کی طرف پیش رفت ممکن ہو سکے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے