کراچی (کیو این این ورلڈ) صوبائی دارالحکومت کراچی میں پولیس نے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے مختلف مقابلوں کے بعد 9 ڈاکوؤں کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا۔ پولیس اور ریسکیو ذرائع کے مطابق سپر ہائی وے گنا منڈی کے قریب مقابلے میں جاجی رحمان اور گلار خان زخمی ہوئے، جبکہ فیڈرل بی ایریا میں طلحہٰ نامی ڈاکو کو اسلحہ اور مسروقہ سامان سمیت حراست میں لیا گیا۔ گڈاپ سٹی، نیو کراچی، کورنگی اور گارڈن کے علاقوں میں بھی مبینہ پولیس مقابلوں کے دوران فاروق، یوسف، احمد بلوچ اور احمد جوجو نامی ملزمان کو زخمی حالت میں گرفتار کر کے جناح، سول اور عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ پولیس نے ملزمان کے قبضے سے اسلحہ، چھینے گئے موبائل فونز اور موٹرسائیکلیں برآمد کر کے مزید قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔
دوسری جانب سانگھڑ کے نواحی گاؤں رحیم خان مری میں معمولی تنازع پر خاصخیلی برادری کے دو گروپوں میں خونی تصادم ہوا جس کے نتیجے میں 3 خواتین سمیت 20 سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔ پولیس کے مطابق جھگڑا پلاٹ میں کچرا پھینکنے پر شروع ہوا جس میں فریقین نے ایک دوسرے پر کلہاڑیوں اور ڈنڈوں کا آزادانہ استعمال کیا۔ پولیس نے دونوں گروپوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ تفتیش میرٹ پر کی جائے گی اور کسی بھی ملزم سے رعایت نہیں برتی جائے گی۔ تمام زخمیوں کو طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
سندھ کے دیگر اضلاع لاڑکانہ اور شہداد کوٹ میں بھی افسوسناک واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ لاڑکانہ کی بھینس کالونی میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے 17 سالہ نوجوان احمد خان جلبانی جاں بحق ہو گیا، ورثاء کے مطابق مقتول کرکٹ کھیلنے جا رہا تھا کہ اسے نشانہ بنایا گیا۔ ادھر شہداد کوٹ میں انسانیت سوز واقعہ پیش آیا جہاں دوستی سے انکار پر تین مسلح ملزمان عدنان، علی حیدر اور ساگر مگسی نے ایک بیوہ خاتون کو سرِراہ وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا اور اس کی تذلیل کی۔ پولیس نے خاتون کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ دیگر کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔