اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ کے تاریخی موقع پر دارالحکومت اسلام آباد میں ایک انتہائی پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور چین کی نیشنل پیپلز کانگریس کی سٹینڈنگ کمیٹی کے وائس چیئرمین تسائی دافنگ نے خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر دونوں ممالک کی فولادی دوستی کے 75 سال مکمل ہونے کی خوشی میں یادگاری ڈاک ٹکٹ اور یادگاری سکہ جاری کیا گیا، جبکہ صدر، وزیراعظم اور چینی مہمانوں نے مل کر سالگرہ کا کیک کاٹا۔ تقریب میں بچوں نے چینی ثقافتی نغموں پر شاندار پرفارمنس پیش کی اور دونوں ممالک کے گلوکاروں نے خوبصورت نغمے گا کر محفل کو رونق بخشی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے چینی قیادت اور عوام کو دلی مبارکباد پیش کی اور کہا کہ دنیا میں منفرد مثال پاک چین دوستی وقت کی ہر آزمائش پر پوری اتری ہے اور پاکستان وہ پہلا مسلم ملک تھا جس نے چین کو تسلیم کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ چین ہر مشکل وقت اور آفت میں پاکستان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا رہا ہے اور پاکستان نے بھی ہمیشہ ون چائنہ پالیسی کی بھرپور حمایت کی ہے۔ وزیراعظم نے سی پیک کو صدر شی جن پنگ کے بیلٹ اینڈ روڈ وژن کا عملی مظہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کی معیشت اور روزگار کے لیے ریڑھ کی ہڈی ہے، جبکہ زراعت میں جدت کے لیے ایک ہزار پاکستانی زرعی گریجویٹس چین سے جدید تربیت مکمل کر چکے ہیں۔ انہوں نے عزم دہرایا کہ پاکستان میں موجود ہر چینی شہری کی سلامتی ہماری اولین ترجیح ہے اور ہم انہیں بہترین سکیورٹی فراہم کر رہے ہیں۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے اپنے خطاب میں کہا کہ 75 سال پہلے شروع ہونے والا یہ سفر آج "آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ” میں بدل چکا ہے اور چین کے ساتھ دوستی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے۔ انہوں نے گوادر بندرگاہ کی تعمیر کو چین کی جانب سے پاکستان کے لیے ایک عظیم تحفہ قرار دیا اور کہا کہ صدر شی جن پنگ کی قیادت نے دونوں ممالک کے تعلقات کو بے مثال بلندیوں تک پہنچایا ہے۔ صدر زرداری نے واضح کیا کہ پاکستان چین کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور بنیادی قومی مفادات کا ہمیشہ احترام اور حمایت کرتا رہے گا۔
چینی وفد کے سربراہ اور وائس چیئرمین تسائی دافنگ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی قیادت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ چین، پاکستان کی قومی آزادی، خودمختاری اور وقار کے تحفظ کی مضبوط حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی فورمز پر پاکستان کے ساتھ قریبی روابط کو مزید بڑھایا جائے گا اور دونوں ممالک حقیقی کثیرالجہتی نظام، منصفانہ عالمی نظام، سائنس، ٹیکنالوجی اور موسمیاتی تحفظ کے لیے مل کر کام کرتے رہیں گے۔