خیبر (کیو این این ورلڈ/نامہ نگار نور حلیم آفریدی) عوامی نیشنل پارٹی باڑہ کے صدر عبد الواحد آفریدی نے کہا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی کسی بھی غیر جمہوری عمل کی حمایت نہیں کرے گی۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وادی تیراہ سے نقل مکانی کرنے والے متاثرین کی باعزت، محفوظ اور باوقار واپسی یقینی بنانے کے لیے 37 نکاتی معاہدے پر من و عن عمل درآمد کیا جائے اور اس سلسلے میں فوری عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر حکومت نے معاہدے پر عمل درآمد اور متاثرین کی واپسی کے حوالے سے پیش رفت نہ کی تو باڑہ جلسے میں عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے کیے گئے اعلانات برقرار رہیں گے۔
باڑہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عبد الواحد آفریدی نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی کی سیاسی تاریخ جمہوریت، آئین کی بالادستی اور عوامی حقوق کی جدوجہد سے عبارت ہے۔ پارٹی نے مختلف ادوار میں سیاسی مشکلات اور قربانیوں کا سامنا کیا، لیکن اس کے باوجود غیر جمہوری اقدامات کی حمایت نہیں کی اور اپنے اصولی مؤقف پر قائم رہی۔
انہوں نے تاریخی واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 1948 میں نیشنل پارٹی کے وزیراعلیٰ کی جبری گمشدگی اور بعد ازاں چھ سو سے زائد افراد کی شہادتوں جیسے واقعات بھی عوامی نیشنل پارٹی کو غیر جمہوری عمل کی حمایت پر مجبور نہیں کر سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی جمہوری اقدار، آئینی حقوق اور عوامی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔
ضلع خیبر میں وادی تیراہ کے متاثرین کی واپسی کے معاملے پر بات کرتے ہوئے عبد الواحد آفریدی نے کہا کہ ماضی میں صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانے والے اور متاثرین کی واپسی میں رکاوٹیں ڈالنے کے الزامات عائد کرنے والے عناصر اب خود اقتدار میں ہیں۔ ایسے میں موجودہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ متاثرین کی مشکلات کا احساس کرتے ہوئے ان کی واپسی کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔
انہوں نے زور دیا کہ تیراہ سے نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کی واپسی کو محض اعلانات تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اس حوالے سے کیے گئے 37 نکاتی معاہدے پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے، تاکہ متاثرین اپنے علاقوں میں محفوظ اور باعزت طریقے سے واپس جا سکیں اور انہیں درپیش مسائل کا ازالہ ہو سکے۔
اے این پی باڑہ کے صدر نے واضح کیا کہ اگر حکومت نے متاثرین کی واپسی اور معاہدے پر عمل درآمد کے لیے فوری اقدامات نہ کیے تو باڑہ جلسے میں پارٹی کی جانب سے کیے گئے اعلانات بدستور برقرار رہیں گے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ متاثرین کے مسائل کو سنجیدگی سے لیا جائے اور ان کے مطالبات پر عملی پیش رفت کی جائے۔
پریس کانفرنس کے دوران حکومتی سطح پر ایمرجنسی اے آر ڈی سی کے قیام میں شرکت کے معاملے پر بھی پارٹی کا مؤقف سامنے آیا۔ عبد الواحد آفریدی نے کہا کہ اس حوالے سے عوامی نیشنل پارٹی میں مشاورت کی جائے گی اور اس کے بعد ہی شرکت یا عدم شرکت کا حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی اہم سیاسی اور عوامی معاملات پر فیصلے پارٹی مشاورت کی روشنی میں کرتی ہے، اس لیے ایمرجنسی اے آر ڈی سی میں شمولیت کے بارے میں بھی فیصلہ مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔