دو دہائیوں بعد عراق سے امریکی فوجی مشن ختم، یکم اکتوبر کو یومِ خودمختاری منایا جائے گا

بغداد (کیو این این ورلڈ): عراق میں دو دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط امریکی فوجی موجودگی کے بعد امریکی افواج کا انخلا مکمل ہوگیا، جبکہ عراقی حکومت نے اس موقع پر یکم اکتوبر کو ’’یومِ خودمختاری‘‘ کے طور پر منانے کا اعلان کیا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق عراق سے امریکی فوجی اہلکاروں اور سازوسامان کا منظم انخلا 30 ستمبر کو مکمل کرلیا گیا۔ امریکی افواج کے انخلا کے ساتھ عراق میں داعش کے خلاف امریکی قیادت میں جاری آپریشن ’’انہرنٹ ریزولو‘‘ کا مشن بھی ختم ہوگیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق اس کے بعد عراق اور امریکا کے درمیان سکیورٹی تعاون دوطرفہ دفاعی شراکت داری کی بنیاد پر جاری رہے گا، جبکہ داعش کے خلاف کارروائیوں کے لیے امریکی قیادت میں مشترکہ ٹاسک فورس کا مرکزی ڈھانچہ اردن منتقل کردیا گیا ہے۔

امریکی فوجی انخلا کے موقع پر عراقی سکیورٹی فورسز نے بغداد اور نجف میں فوجی گاڑیوں کے ساتھ پریڈ بھی کی۔ عراقی حکام نے اس پیش رفت کو ملکی خودمختاری کے ایک نئے مرحلے کے آغاز کے طور پر پیش کیا ہے۔

عراقی وزیراعظم علی فالح الزیدی نے اس سے قبل کہا تھا کہ یکم اکتوبر عراق کی ریاستی تاریخ میں ایک نئے مرحلے کا آغاز ہوگا، کیونکہ اس دن ملک کسی غیر ملکی فوجی موجودگی کے بغیر اپنی مکمل خودمختاری کی طرف بڑھے گا۔ عراقی حکومت نے سرکاری اداروں اور صوبوں کو بھی یومِ خودمختاری کے موقع پر خصوصی تقریبات اور سرگرمیوں کے انعقاد کی ہدایت کی ہے۔

امریکا اور عراق نے 2024 میں داعش کے خلاف امریکی قیادت میں قائم عالمی اتحاد کے فوجی مشن کو مرحلہ وار ختم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ اس منصوبے کے تحت اتحادی افواج نے عراق کے مختلف علاقوں سے انخلا شروع کیا اور بعد ازاں ان کی موجودگی شمالی عراق کے خودمختار کردستان خطے تک محدود رہ گئی تھی، جہاں سے آخری امریکی فوجی بھی 30 ستمبر کو روانہ ہوگئے۔

امریکی افواج کی عراق میں موجودگی کا موجودہ مرحلہ 2014 میں اس وقت شروع ہوا تھا جب داعش نے عراق اور شام کے وسیع علاقوں پر قبضہ کرلیا تھا۔ امریکی قیادت میں قائم عالمی اتحاد نے عراقی فورسز کو داعش کے خلاف کارروائیوں میں تربیت، مشاورت اور انٹیلی جنس سمیت مختلف شعبوں میں معاونت فراہم کی۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ داعش کو عراق میں ایک منظم علاقائی فوجی طاقت کے طور پر شکست دی جاچکی ہے، جس کے بعد سکیورٹی کی ذمہ داری عراقی فورسز کو منتقل کی جارہی ہے۔

عراق میں امریکی فوجی موجودگی کی تاریخ تاہم 2014 سے کہیں زیادہ پرانی ہے۔ امریکا نے 2003 میں صدر صدام حسین کی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے عراق پر حملہ کیا تھا۔ امریکی فوجی 2011 کے اختتام پر عراق سے واپس چلے گئے تھے، تاہم داعش کے پھیلاؤ کے بعد 2014 میں دوبارہ بڑی تعداد میں واپس آئے اور نئے فوجی مشن کا آغاز کیا گیا۔

دو دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط اس تنازع کے دوران ہزاروں امریکی فوجی ہلاک ہوئے، جبکہ عراق میں شہری ہلاکتوں کی تعداد دو لاکھ سے زائد بتائی جاتی ہے۔ امریکی فوجی موجودگی کے خاتمے کے ساتھ عراق اب اپنی سکیورٹی اور دفاعی ضروریات کو زیادہ تر اپنی قومی فورسز کے ذریعے پورا کرنے کے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔

دوسری جانب امریکی انخلا کے بعد عراق کے داخلی سکیورٹی منظرنامے پر بھی توجہ مرکوز ہوگئی ہے۔ عراقی حکومت نے ملک میں اسلحہ صرف ریاستی اداروں کے اختیار میں رکھنے پر زور دیا ہے، جبکہ مسلح دھڑوں کو غیر مسلح کرنے کا معاملہ بھی حکومت کے لیے اہم چیلنج قرار دیا جارہا ہے۔ وزیراعظم علی الزیدی نے بھی اسلحے کو ریاستی اختیار تک محدود رکھنے کو ملک میں استحکام اور ترقی کے لیے ضروری قرار دیا ہے۔

عراقی حکومت کے مطابق یکم اکتوبر سے ملک ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوگا جس میں غیر ملکی فوجی موجودگی کے بجائے عراقی ریاست اپنی سلامتی، دفاع اور مستقبل کے فیصلوں میں مرکزی کردار ادا کرے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے