پیرس (کیو این این ورلڈ) فرانس میں ہفتے کے روز بڑے پیمانے پر مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا جس میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پانچ لاکھ پچاس ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی۔ مظاہروں کے دوران متعدد شہروں میں لوٹ مار، ہنگامہ آرائی اور تشدد کے واقعات بھی پیش آئے جن کے نتیجے میں تقریباً 400 افراد کو حراست میں لیا گیا۔
فرانسیسی وزیر داخلہ لوراں نونیز نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پورے ملک میں مظاہرین کی تعداد پانچ لاکھ پچاس ہزار تک پہنچی جن میں سے ایک لاکھ دس ہزار افراد صرف پیرس میں موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ گرفتار ہونے والوں میں اکثریت بالغ افراد کی ہے جن کا طلبہ تحریک سے براہ راست کوئی تعلق نہیں تھا۔
مظاہروں کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساٹھ اہلکار زخمی ہوئے جن میں سے دو اہلکاروں کو بے ہوشی کی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا۔ وزیر داخلہ نے تشدد اور تباہی کا ذمہ دار انتہا پسند بائیں بازو کے عناصر کو قرار دیا اور کہا کہ عوامی عمارتوں کو نشانہ بنانے کی واضح خواہش موجود تھی۔
لوٹ مار یا اس کی کوشش کے واقعات کئی بڑے شہروں میں ریکارڈ کیے گئے جن میں پیرس، روآن، نانت، تولوز اور مارسیلیز شامل ہیں۔ مظاہرین نے صوبائی انتظامیہ کے دفاتر، کاروباری مراکز اور بلدیاتی عمارتوں پر حملے کیے اور کچھ مقامات پر لوٹ مار بھی کی۔
فرانسیسی صدر نے اس صورتحال پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فرانس میں تشدد کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جو بھی افراد صوبائی انتظامیہ کے دفاتر، کاروباری مراکز یا بلدیاتی عمارتوں کو نقصان پہنچانے، ان پر حملہ کرنے یا لوٹ مار میں ملوث پائے گئے انہیں قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی۔
حکام کے مطابق مظاہرے کا آغاز معاشی اور سماجی مطالبات کے تحت ہوا تھا تاہم بعد ازاں کچھ عناصر نے اسے تشدد اور تباہی کی طرف موڑ دیا۔ پولیس نے متعدد شہروں میں خصوصی کارروائیاں کر کے صورتحال کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی۔
اس واقعے نے فرانس میں جاری سماجی بے چینی اور سیاسی پولرائزیشن کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے جبکہ حکومت نے واضح پیغام دیا ہے کہ پرامن احتجاج کا حق محفوظ ہے مگر تشدد اور لوٹ مار برداشت نہیں کی جائے گی۔