لندن (نیوز ایجنسی) بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی متنازعہ اور تنقید کا نشانہ بننے والی پالیسیوں کے خلاف بھارتی نوجوانوں کی آواز اب بیرون ملک بھی گونج اٹھی ہے۔
لندن میں بھارتی ہائی کمیشن کے باہر سٹوڈنٹ فیڈریشن آف انڈیا کے زیر اہتمام ایک احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ مظاہرین نے مودی کی بارہ سالہ حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے ان کی پالیسیوں کو ناقص اور عوام دشمن قرار دیا۔
مظاہرے کے دوران نوجوانوں نے مودی کے خلاف سخت نعروں کا سہارا لیا۔ خاص طور پر ’’چھپن انچ کی چھاتی والا چھوٹا بندر‘‘ جیسے نعرے لگائے گئے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مظاہرین نے ایک بندر کا مجسمہ یا کھلونا ہاتھ میں اٹھا کر مودی کے خلاف نعرے بازی کی۔
بھارتی جریدہ انڈیا ٹوڈے نے اس مظاہرے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ احتجاج سٹوڈنٹ فیڈریشن آف انڈیا نے منظم کیا تھا۔ مظاہرین نے مودی کی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ اقتدار کو برقرار رکھنے کے لیے منظم بدانتظامی اور جمہوری اداروں کو کمزور کرنے کی پالیسیاں اپنا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی کی ان پالیسیوں نے بھارت میں نام نہاد جمہوریت کے کھوکھلے پن کو مزید واضح کر دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ معاشی مسائل، بے روزگاری، اقلیتوں کے حقوق اور آزادی اظہار پر پابندیوں جیسے مسائل نے نوجوان نسل کو شدید مایوس کر دیا ہے، جس کا اظہار اب بیرون ملک بھی ہو رہا ہے۔
یہ مظاہرہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مودی کی حکومت کے خلاف ناراضگی صرف بھارت تک محدود نہیں بلکہ تارکین وطن بھارتی کمیونٹی میں بھی پھیل رہی ہے۔ لندن میں موجود بھارتی طلبہ اور نوجوانوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت عوامی مسائل پر توجہ دے اور جمہوری اقدار کی حفاظت کرے۔
احتجاج پرامن رہا اور مقامی پولیس نے صورتحال کو کنٹرول میں رکھا۔ سوشل میڈیا پر اس ویڈیو کے گردش کرنے کے بعد بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا یہ مظاہرہ مودی حکومت کی خارجہ تصویر پر اثر انداز ہوگا یا نہیں۔