کیا نہتے بی ایم پی کے چند اہلکارجدید اسلحہ سے لیس دہشت گردوں کا مقابلہ کر پائیں گے ؟
ڈیرہ غازی خان ( کیو این این ورلڈ/انویسٹی گیشن سیل) کیا ڈیرہ غازی خان کوہِ سلیمان کے انتہائی حساس بارڈر پر تعینات بارڈر ملٹری پولیس کے نہتے اور بے سروسامان اہلکار جدید اسلحہ، راکٹ لانچرز اور ڈرونز سے لیس خوارج و ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کا مقابلہ کر پائیں گے؟ یہ وہ سنگین سوال ہے جو تمن قیصرانی کے سرحدی تھانہ چتروٹہ پر ہونے والے ہولناک حملے اور عمارت کی تباہی کے بعد ضلع کی اعلیٰ انتظامیہ کے ‘سب اچھا’ کے دعووں پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن کر ابھرا ہے۔ تمن قیصرانی تحصیل کوہِ سلیمان کے انتہائی حساس سرحدی علاقے میں واقع بی ایم پی تھانہ چتروٹہ پر خوارج اور کالعدم ٹی ٹی پی سے منسلک دہشت گردوں نے 19 مئی 2026 کو دن کے اجالے میں راکٹ لانچرز، دھماکہ خیز مواد اور جدید ترین کواڈ کاپٹر ڈرونز سے ہولناک حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں تھانے کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا اور اس کے کچھ حصے مکمل طور پر تباہ ہو گئے، تاہم حملے کے دوران خوش قسمتی سے کوئی بی ایم پی اہلکار شہید یا زخمی نہیں ہوا۔ کیونکہ اسی روز تھانہ چتروٹہ سے مشرق کی طرف رودکوہی وہوا میں بمقام سگھ دف مقامی مویشی منڈی لگتی ہے ملازمان وہاں سکیورٹی کیلئے گئے ہوئے تھے۔ کوہِ سلیمان کے سرحدی علاقے میں سیکیورٹی کا سنگین بحران، دہشت گردوں کا بی ایم پی تھانہ چتروٹہ پر راکٹ لانچرز اور جدید ترین اسلحہ سے ہولناک حملہ، تھانے کی عمارت کا بڑا حصہ تباہ، کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، سیکیورٹی انتظامات نہ ہونے کے برابرتھانے کے پاس ایک سرکاری گاڑی تک موجود نہیں، اعلیٰ افسران پر ملازمین کو دانستہ طور پر موت کے منہ میں دھکیلنے کے سنگین الزامات سامنے آ گئے۔
مقامی ذرائع کے مطابق انتظامیہ کی مجرمانہ لاپرواہی کے باعث یہ حساس ترین سرحدی علاقہ عملاً ایک ‘نو گو ایریا’ بن چکا ہے جہاں سیکیورٹی فورسز کے کلیئرنس کے دعوؤں کے برعکس، حکومتی رٹ نہ ہونے کے برابر ہے اور تھانہ چتروٹہ میں صرف 8 بے بس اہلکاروں کو بغیر کسی سرکاری گاڑی اور محض پرانے ہتھیاروں کے ساتھ موت کے منہ میں چھوڑ دیا گیا ہے۔ دوسری طرف سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے فوری اور بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے علاقے کو مکمل طور پر کلیئر کر دیا ہے، جبکہ مقامی ذرائع نے ان دعوؤں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ یہاں کے نہتے مقامی تمن قیصرانی کے باشندوں نے اپنی مدد آپ کے تحت کافی حد تک ان دہشت گردوں کو آگے بڑھنے سے روک رکھا ہے، جبکہ ضلع کے اعلیٰ آفیسران بشمول بی ایم پی کمانڈنٹ، ڈپٹی کمشنر اور لائن آفیسر حقائق چھپانے اور سب اچھا کی رپورٹ دینے میں مصروف ہیں۔ اسی طرح بی ایم پی کے تمام رسالداروں اور جمعداروں کی اپنے جوانوں کی زندگیوں کو لاحق خطرات پر مجرمانہ خاموشی پر بھی اب سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی سرحد کے قریب واقع اس انتہائی حساس قبائلی علاقے میں ہونے والے اس ہولناک حملے نے بارڈر ملٹری پولیس کے حفاظتی انتظامات، کمانڈ کی اہلیت اور اعلیٰ حکام کی کارکردگی کا پول کھول کر رکھ دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق تین صوبوں کی سرحد پر واقع بی ایم پی تھانہ چتروٹہ کی جغرافیائی پوزیشن انتہائی خطرناک اور حساس ہے جہاں سیکیورٹی کے نام پر صرف 8 ملازمین تعینات ہیں جن میں 5 بی ایم پی اور 3 بلوچ لیوی کے اہلکار شامل ہیں، جبکہ پورے تھانے کے پاس پیٹرولنگ یا ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک بھی گاڑی موجود نہیں ہے۔ تھانہ چتروٹہ کی عمارت سے بلوچستان کی باؤنڈری محض ایک فرلانگ کے فاصلے پر واقع ہے جس کے مغرب میں موسیٰ خیل کا علاقہ لشکریالہ اور جنوب میں 30 کلومیٹر دور تھانہ پھگلہ واقع ہے لیکن ان دونوں تھانوں کے درمیان کوئی باقاعدہ روڈ موجود نہیں ہے اور آمدورفت کے لیے بلوچستان کے علاقے ڈب کا راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے، جبکہ پنجاب کا قریبی علاقہ یا شہر وہوا یہاں سے تقریباً 40 سے 45 کلومیٹر دور ہے اور بارشوں کے موسم میں رود کوہی وہوا کا سیلابی ریلہ تھانہ چتروٹہ کو پورے علاقے سے کاٹ کر رکھ دیتا ہے جس کے باعث کسی بھی سیکیورٹی خدشے کی صورت میں یہاں کسی قسم کی بیرونی امداد کی توقع بالکل نہیں کی جا سکتی۔
حساس ترین سرحدی پوزیشن ہونے کے باوجود اس تھانے کے نزدیکی علاقوں میں صرف 15 سے 20 گھر موجود ہیں، جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ بی ایم پی کے بیشتر اہلکار دہشت گردوں کے شدید خوف کی وجہ سے تھانوں میں جاتے ہی نہیں اور یہ تھانے عملاً خالی پڑے ہیں۔ بی ایم پی کمانڈنٹ، ڈپٹی کمشنر اور لائن آفیسر نے مبینہ طور پر ان ملازمین کو بغیر کسی وسائل کے یہاں زبردستی تعینات کر رکھا ہے، جس پر مقامی سطح پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے حکام پر ملازمین کو جان بوجھ کر موت کے منہ میں دھکیلنے اور شہید کروانے کے سنگین الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔
چتروٹہ سے شمال کی طرف پنجاب کا آخری علاقہ لزدان 20 کلومیٹر دور ہے، جس کی شمالی جانب خیبر پختونخوا اور مغربی سائیڈ پر بلوچستان کا علاقہ سیوی راغہ اور چوبارہ لگتا ہے، جبکہ درہ کوڑا بستی جوتر مڑھا میں مبینہ طور پر فتنہ الخوارج کی پکٹ موجود ہے جہاں پر اسمگلروں سے ٹول ٹیکس کے نام پر بھتہ خوری جاری ہے اور اس سے کچھ فاصلے پر کوڑا رود کوہی کے علاقے میں بھی دہشت گردوں کی بھاری موجودگی کی اطلاعات ہیں۔
ان تمام سنگین خطرات کے باوجود بارڈر پر قائم چاروں بی ایم پی تھانوں (بی ایم پی تھانہ وہوا، پھگلہ، لاکھانی اور چتروٹہ) میں حفاظتی اقدامات بالکل نہ ہونے کے برابر ہیں، جبکہ اس کے برعکس پنجاب پولیس کی باؤنڈری پکٹس بشمول لاکھانی پکٹ، جھنگی پکٹ اور تھانہ وہوا پر مضبوط باؤنڈری وال، مورچے، بھاری نفری، جدید اسلحہ، ایمونیشن اور بلٹ پروف گاڑیاں فراہم کر کے بہترین حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں جو کہ انتظامیہ کے دوہرے معیار کو ظاہر کرتا ہے اور اعلیٰ حکام کی مجرمانہ غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
بی ایم پی کے اپنے ریکارڈ کے مطابق تھانہ وہوا میں ایک جمعدار، ایک نائب دفعدار، ایک محرر، 4 سوار اور بلوچ لیوی کے 3 اہلکاروں سمیت کل 10 افراد پر مشتمل ہے، تھانہ لاکھانی میں 6 بلوچ لیوی اہلکاروں سمیت کل 13 افراد پر مشتمل نفری ہے، تھانہ پھگلہ میں 3 بلوچ لیوی اہلکاروں سمیت کل 13 افراد کی نفری اور دہشت گردی کا شکار تھانہ چتروٹہ میں 3 بلوچ لیوی اہلکاروں سمیت کل 8 افراد کی نفری دہشت گردی کو کنٹرول اور علاقہ امن و امان قائم کرنے کیلئے جن کے پاس کوئی گاڑی بھی نہیں اور نہ ان کے پاس کوئی جدید ہتھیار اور نہ ہی انہیں دہشت گردی اور جرائم پیشہ عناصر سے نمٹنے کیلئے کوئی خاص ٹریننگ دی گئی ہے، جس کے ذمہ دار براہِ راست کمانڈنٹ بی ایم پی، رسالدار، لائن آفیسرز اور ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ افسران ہیں جو ان نہتے ملازمین کی زندگیوں کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔
علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ بی ایم پی اہلکاروں کے پاس صرف پرانے ہتھیار ایس ایم جی اور جی تھری رائفلیں ہیں، جبکہ دوسری طرف ٹی ٹی پی اور فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کے پاس اسنائپر رائفلز، راکٹ لانچرز، ہینڈ گرینیڈز اور نگرانی کے لیے جدید ترین ڈرونز موجود ہیں۔ اس کے ساتھ ہی کرکنہ سے براستہ ڈب بلوچستان اور چتروٹہ سے رود کوہی وہوا کا یہ راستہ اسمگلروں کے لیے بھی موزوں ترین روٹ بن چکا ہے جنہیں اکثر مقامی بااثر افراد کی آشیرباد حاصل ہوتی ہے، اور بی ایم پی کے پاس گاڑی اور نفری نہ ہونے کی وجہ سے یہاں اسمگلنگ اور دہشت گردی عروج پر پہنچ چکی ہے۔
اس کے علاوہ ذرائع نے یہ بھی سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ اس روٹ پر بی ایم پی کے اپنے کئی ملازمین بھی مبینہ طور پر اسمگلنگ کی پشت پناہی اور اس مکروہ دھندے میں ملوث ہیں، جس کی وجہ سے یہ پورا علاقہ اسمگلرز کے لیے انتہائی محفوظ ترین روٹ بن چکا ہے۔ ڈب بلوچستان، سیوی راغہ، لشکریالہ، کلاہان کچھی اور خیبر پختونخوا کے سرحدی علاقوں میں ٹی ٹی پی کی مسلسل موومنٹ اور اسلحہ و ایمونیشن کی شدید کمی کے باعث بی ایم پی کی نفری خوف کی وجہ سے بارڈر ایریا میں گشت کرنے سے بھی کتراتی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ دہشت گرد دھڑلے سے ان علاقوں میں داخل ہوتے ہیں۔
تاہم اس کے باوجود مقامی قیصرانی قبیلے نے اپنی روایتی مردانگی، غیرت اور ہمت سے خوارج و طالبان کو علاقے میں مکمل عملداری قائم کرنے سے روک رکھا ہے۔ علاقائی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے چتروٹہ اور دیگر سرحدی تھانوں کو فوری طور پر نئی گاڑیاں، جدید اسلحہ اور تربیت یافتہ اضافی نفری فراہم نہ کی تو مستقبل میں کسی بھی بڑے جانی و مالی نقصان کی تمام تر ذمہ داری ضلع کی اعلیٰ انتظامیہ پر عائد ہوگی جو اب بھی حقائق چھپانے اور سب اچھا کی فرضی رپورٹیں بنانے میں مصروف ہے۔