بجلی کے سنگین بلوں اور بھاری کرایوں نے چھوٹے تاجروں کی کمر توڑ دی

اوچ شریف (کیو این این ورلڈ/نامہ نگار حبیب خان)تاریخی شہر اوچ شریف کا مرکزی مین بازار شدید مہنگائی اور درپیش معاشی مشکلات کے باعث بدترین تجارتی مندی کی لپیٹ میں آ گیا ہے۔ ماضی میں خریداروں کی آمدورفت اور رش سے گونجنے والا یہ روایتی تجارتی مرکز اب ویرانی اور سناٹے کی تصویر بن چکا ہے۔

حالات یہ ہیں کہ دکاندار صبح سے شام تک دکانیں سجائے خریداروں کے انتظار میں بیٹھے رہتے ہیں، مگر فروخت نا ہونے کے برابر ہے۔ روزمرہ فروخت میں نمایاں کمی کے باعث چھوٹے تاجروں کے لیے دکانوں کا سامان پورا کرنا اور روزمرہ اخراجات چلانا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔

روزافزوں مہنگائی، اشیائے ضروریہ کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں اور شہریوں کی محدود آمدنی نے عام عوام کی قوتِ خرید کو مکمل طور پر نچوڑ کر رکھ دیا ہے۔ شہری اب محض انتہائی ضروری اشیاء تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں، جس کا براہِ راست اثر تجارتی مارکیٹوں پر پڑا ہے۔

دوسری جانب، دکانوں کے بھاری ماہانہ کرایے، بجلی کے کمر توڑ بل اور دیگر غیر معمولی اخراجات نے چھوٹے تاجروں کے لیے حالات مزید سنگین بنا دیے ہیں۔ صورتحال یہ بن چکی ہے کہ ایک طرف عام شہری مہنگائی کے ہاتھوں نڈھال ہیں تو دوسری طرف تاجر برادری مسلسل تجارتی خسارے اور شدید معاشی دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔ مین بازار کی یہ ویرانی مقامی معیشت کی زبوں حالی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

اوچ شریف کے شہریوں اور تاجر برادری نے حکومت اور متعلقہ اعلیٰ حکام سے زوردار مطالبہ کیا ہے کہ مہنگائی پر قابو پانے، عامۃ الناس کو فوری ریلیف فراہم کرنے اور چھوٹے کاروباری طبقے کی مشکلات کا ازالہ کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کیے جائیں، تاکہ شہر کی معاشی و تجارتی سرگرمیاں دوبارہ بحال ہو سکیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے