سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن اور مسلم ہیلفن کا امدادی اقدام، متاثرہ گھرانوں کو ایک ماہ کا راشن فراہم

اوچ شریف (کیو این این ورلڈ، نامہ نگار حبیب خان) سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن نے اپنی ڈونر تنظیم مسلم ہیلفن کے تعاون سے سیلاب 2025 سے متاثرہ خاندانوں کی امداد کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے یونین کونسل چناب رسول پور کے علاقے سرور آباد میں 60 مستحق خاندانوں میں راشن پیکج تقسیم کیے۔ امدادی سرگرمی میں ملک ریاض کھوکھر، حافظ کلیم اللہ اور ملک شبیر ارائیں نے اپنی ٹیم کے ہمراہ حصہ لیا۔ اس اقدام کا مقصد سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کی بنیادی غذائی ضروریات پوری کرنے اور انہیں درپیش معاشی مشکلات کم کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔

تفصیلات کے مطابق دریائے چناب میں طغیانی اور حالیہ مون سون بارشوں کے باعث متاثرہ علاقوں میں متعدد خاندانوں کو گھریلو اخراجات اور روزمرہ کی بنیادی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ سیلاب کے اثرات اور مہنگائی کے باعث متاثرہ گھرانوں کے لیے ضروری اشیائے خورونوش کا انتظام کرنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔ ایسے حالات میں سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن نے مسلم ہیلفن کے تعاون سے امدادی سرگرمیوں کو آگے بڑھاتے ہوئے موضع چناب رسول پور کے نواحی علاقے سرور آباد میں 60 مستحق خاندانوں تک راشن پیکج پہنچائے۔

تقسیم کیے جانے والے راشن پیکج میں آٹا، چینی، گھی، کوکنگ آئل، چاول، چنے، مسور، مونگی اور ماش کی دالیں، چائے کی پتی، لال مرچ، نمک، گرم مصالحہ اور دیگر بنیادی اشیائے خورونوش شامل تھیں۔ اس امداد کا مقصد متاثرہ خاندانوں کو ایک ماہ کی بنیادی غذائی ضروریات پوری کرنے میں سہولت فراہم کرنا اور ان کے گھریلو اخراجات کا بوجھ کم کرنے میں مدد دینا ہے۔

اس موقع پر ملک ریاض کھوکھر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قدرتی آفات سے متاثرہ خاندانوں کی مشکلات کم کرنا اور انہیں دوبارہ معمولاتِ زندگی کی طرف لانے میں مدد دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن، مسلم ہیلفن کے تعاون سے سیلاب 2025 سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ متاثرہ آبادیوں کی بحالی کے لیے بھی مرحلہ وار اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں میں راشن کی تقسیم انسانی خدمت کے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امدادی سرگرمیوں کا مقصد صرف فوری غذائی ضروریات پوری کرنا نہیں بلکہ مشکل حالات سے دوچار خاندانوں کو سہارا دینا اور ان کی مشکلات میں حتی المقدور کمی لانا بھی ہے۔

ملک ریاض کھوکھر نے مزید کہا کہ سیلاب کے بعد متاثرہ خاندانوں کو طویل عرصے تک معاشی اور سماجی مسائل کا سامنا رہتا ہے، اس لیے ان کی بحالی کے لیے مسلسل توجہ اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ متاثرہ علاقوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے امدادی سرگرمیاں جاری رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔

راشن پیکج حاصل کرنے والے مرد و خواتین نے سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن اور مسلم ہیلفن کی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔ متاثرہ خاندانوں کا کہنا تھا کہ موجودہ مہنگائی کے دور میں بنیادی اشیائے خورونوش کی فراہمی ان کے لیے اہم سہارا ہے اور اس سے گھریلو اخراجات کا بوجھ کم کرنے میں مدد ملے گی۔

سماجی حلقوں نے اس امر پر زور دیا کہ سیلاب متاثرین کی مستقل بحالی کے لیے سرکاری اداروں، فلاحی تنظیموں، مخیر حضرات اور مقامی نمائندوں کو مشترکہ طور پر کردار ادا کرنا چاہیے، تاکہ متاثرہ خاندانوں کو فوری امداد کے ساتھ ساتھ اپنے پاؤں پر دوبارہ کھڑا ہونے کے مواقع بھی میسر آ سکیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے