اسلام آباد ( کیو این این ورلڈ) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں غیراعلانیہ گورنر راج کی سی صورتحال پیدا کی جا رہی ہے جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ صوبے کے عوام، عوامی مینڈیٹ، وزیراعلیٰ اور تمام ارکانِ اسمبلی کے احترام کو ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ پارٹی نے اپنے آئندہ کے تمام سیاسی پروگراموں اور حکمتِ عملی کا اعلان بہت پہلے کر رکھا ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ سہیل آفریدی ہی ہمارے وزیراعلیٰ ہیں اور بانی پی ٹی آئی کا ان پر مکمل اعتماد قائم ہے۔ سہیل آفریدی کو پارٹی اور قیادت کی تمام تر حمایت حاصل ہے اور وہی اپنے عہدے پر قائم رہیں گے۔
بیرسٹر گوہر نے ملک کے موجودہ سیاسی حالات اور مجوزہ لانگ مارچ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اتنے حساس اور سنجیدہ مواقع پر حکومت اور سیاسی بصیرت کا تقاضا ہے کہ بات چیت کا راستہ اختیار کیا جائے۔ انہوں نے احتجاجی راستے پر گامزن سیاسی کارکنان کے خلاف سخت اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پرامن سیاسی لوگوں کے خلاف نیٹ لانچر جیسی فورس استعمال کرنا انتہائی نا مناسب رویہ ہے۔ سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں پر تشدد کے بجائے ان کی بات سننا، ان کے تحفظات کا احاطہ کرنا اور ان کی شکایات کو حل کرنا ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ تحریک انصاف ایک مکمل طور پر پرامن جماعت ہے اور اپنے آئینی حقوق کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ ہم انصاف اور اپنے حق کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بارہا یاد دہانیوں کے باوجود ہماری بات نہیں سنی گئی اور نہ ہی ہمیں انصاف کی فراہمی ممکن بنائی گئی ہے۔
مذاکرات کے حوالے سے سامنے آنے والی افواہوں کی تردید کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے وضاحت کی کہ تحریک انصاف نے مذاکرات کے مقصد سے کسی قسم کی چار رکنی کمیٹی تشکیل نہیں دی۔ اس حوالے سے علامہ راجہ ناصر عباس اور محمود خان اچکزئی کو مکمل اختیار حاصل ہے اور وہ حالات کے مطابق جس طرح چاہیں پیش رفت کر سکتے ہیں۔
انہوں نے ایک بار پھر عزم دہرایا کہ پارٹی ماضی کی طرح آئندہ بھی پرامن رہے گی اور کسی ادارے یا اسلام آباد پر کسی قسم کا حملہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے حکومت کو خبردار کیا کہ وہ اپوزیشن کے خلاف من گھڑت تاثر اور بیانیہ قائم کرنے سے گریز کرے، کیونکہ اگر ایسا کوئی مصنوعی تاثر دے کر ملک کی بڑی سیاسی جماعت کو سیاسی میدان سے باہر کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کے نتائج ملک و قوم کے لیے انتہائی خطرناک ہو سکتے ہیں۔