بھارتی ایئر ڈیفنس سسٹم ایس فور ہنڈرڈ کی تباہی

سیالکوٹ(کیو این این ورلڈ) معرکہ حق کے نمایاں اور تاریخی واقعات میں روسی ساختہ بھارتی ایئر ڈیفنس سسٹم ایس فور ہنڈرڈ کی تباہی ایک ایسا واقعہ ہے جس نے عالمی سطح پر بھارت کے جنگی غرور کو خاک میں ملا دیا ہے۔ اگرچہ بھارت نے ہمیشہ کی طرح اس بڑی دفاعی ناکامی کو تسلیم کرنے سے انکار کیا، تاہم پاکستان نے ٹھوس شواہد کے ذریعے دنیا پر ثابت کر دیا کہ دشمن کا یہ نام نہاد ناقابلِ تسخیر سسٹم پاکستانی شاہینوں اور میزائلوں کے سامنے بے بس ہو چکا ہے۔

بھارت کو اپنی فضائی سرحدوں کے تحفظ کے لیے ایس فور ہنڈرڈ سسٹم پر غیر معمولی یقین تھا، جو بیک وقت 80 کے قریب کروز یا بیلسٹک میزائلوں کو آواز کی رفتار سے 15 گنا زیادہ تیزی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بھارتی حکام کا خیال تھا کہ اس سسٹم کی موجودگی میں پاکستان کا کوئی بھی میزائل ان کی حدود میں داخل نہیں ہو سکے گا، مگر معرکہ حق کے دوران جب پاکستان نے دیگر اہداف کے ساتھ ساتھ خود ایس فور ہنڈرڈ کو ہی نشانہ بنا کر ناکارہ کر دیا، تو بھارتی دفاعی حلقوں میں کھلبلی مچ گئی۔

اپنی عالمی سبکی مٹانے کے لیے مودی سرکار نے ادھم پور ایئر بیس پر میزائل لانچر کے سامنے تصاویر بنوا کر پراپیگنڈا کرنے کی کوشش کی کہ سسٹم محفوظ ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس تھی۔ ایس فور ہنڈرڈ سسٹم تین اہم حصوں؛ کمانڈ سنٹر، ریڈار اور میزائل لانچر پر مشتمل ہوتا ہے، جس میں سے پاکستان نے ادھم پور میں موجود اس کے مرکزی کمانڈ سنٹر کو تباہ کیا تھا۔ اس تباہی کا سب سے بڑا ثبوت بھارتی میڈیا کی وہ خبر ہے جس کے مطابق ایس فور ہنڈرڈ کا آپریٹر رام بابو سنگھ پاکستانی حملے میں ہلاک ہوا، جسے چھپانے کے لیے بعد ازاں بھارتی حکومت نے اس کا تعلق بی ایس ایف سے جوڑ کر بیان تبدیل کرنے کی ناکام کوشش کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے