ماں سب کی، یا صرف لاہور کی؟

سب دی ماں یا سوتیلی ماں؟
تحریر: سید نذیر شاہ
سیاست کے بازار میں نعرے ہمیشہ دلکش ہوتے ہیں اور جب حکمران خود کو عوام کا خادمِ اعلیٰ یا پھر "سب دی ماں” کہتے ہیں تو ایک لمحے کو کسی غریب کے دل میں بھی امید کی شمع جل اٹھتی ہے۔ ویسے تو "سب دی ماں” کا یہ منفرد لقب ڈیرہ غازی خان ہی کی ایک درسگاہ میں منعقدہ تقریب سے مقبول ہوا تھا، جہاں ایک طالبہ نے جذباتی نظم پڑھ کر وزیراعلیٰ مریم نواز کی عوامی خدمات کو سراہا تو مریم نواز خود بھی اپنے آنسو نہ روک سکیں اور آبدیدہ ہو گئیں۔ اس وقت منظر ایسا تھا کہ یوں لگا جیسے واقعی کوئی سچی ماں اپنے بچوں کا درد دل سے محسوس کر رہی ہو۔ مگر کسی بھی حکمران کی اصل پہچان سٹیج کی چمکتی لائٹوں، تالیوں کی گونج اور پروقار تقریبات میں نہیں، بلکہ اس وقت ہوتی ہے جب کسی خستہ چھت کا ملبہ گرتا ہے اور ماؤں کی بھری ہوئی گودیں لمحوں میں اجڑ جاتی ہیں۔

ابھی کچھ ہی دن پہلے لاہور کے علاقے کاہنہ میں ایسا ہی دلدوز اور دردناک سانحہ پیش آیا، جہاں ایک گھر کی بوسیدہ چھت پر مٹی ڈالی جا رہی تھی اور نیچے تیس سے پینتیس معصوم بچے اپنے روشن مستقبل کے خواب آنکھوں میں سجائے ٹیوشن پڑھ رہے تھے۔ اچانک ایک زوردار دھماکے کے ساتھ وہ خستہ چھت نیچے بیٹھے بچوں پر آ گری، جس کے ملبے تلے دب کر چودہ معصوم بچے ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئے اور پورا ملک اس المیے پر لرز اٹھا۔ اس قیامت خیز واقعے کے بعد صوبائی حکومت بھی پوری طرح متحرک ہوئی۔ صدر، وزیراعظم اور وزیراعلیٰ نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور فوراً ہی مشیر وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ ہر جاں بحق ہونے والے بچے کے لواحقین کو بیس لاکھ روپے اور ہر زخمی کو پانچ لاکھ روپے دیے جائیں گے۔ اس فوری حکومتی ردعمل اور سرگرمی کو دیکھ کر یوں لگا کہ ریاست واقعی ایک شفیق ماں بن کر اپنے بچوں کے آنسو پونچھ رہی ہے۔

لیکن اس دل ہلا دینے والے واقعے سے ٹھیک سات ہفتے پہلے ڈیرہ غازی خان کے ایک پرائیویٹ اسکول کی کلاس میں بھی بالکل یہی قیامت اتری تھی۔ وہاں بھی پڑھائی کے دوران اچانک اسکول کی چھت گر گئی اور پانچ سے آٹھ سال کی عمر کے چار ننھے پھول عبداللہ، غانیہ زہرا، معصوم فاطمہ اور دعا فاطمہ ملبے تلے دب کر دم توڑ گئے۔ اس حادثے میں سولہ معصوم بچوں اور ان کی دو استانیوں، مس صائمہ اور مس سدرہ سمیت بیس کے قریب افراد شدید زخمی ہو کر ہسپتال پہنچے۔ وہاں بھی مائیں اسی طرح بین کرتی رہیں، وہاں بھی باپ اپنے ناتواں کندھوں پر ننھے جنازے اٹھا کر قبرستان کی طرف جاتے رہے اور وہاں بھی ہنستے کھیلتے گھر لمحوں میں ماتم کدوں میں بدل گئے۔ پورا شہر اس ہولناک واقعے پر سوگوار ہو گیا اور دوسرے اسکولوں میں پڑھنے والے بچے اور ان کے خوفزدہ والدین سہم کر رہ گئے۔

مگر دونوں شہروں کے ان سانحات میں فرق صرف اتنا تھا کہ ڈیرہ غازی خان کے واقعے پر نہ تو کوئی بیس لاکھ روپے کا اعلان ہوا، نہ زخمیوں کے لیے پانچ لاکھ کا کوئی وعدہ کیا گیا اور نہ ہی صدر، وزیراعظم یا وزیراعلیٰ ان کے دروازے پر آئے۔ اگرچہ دنیا کی کوئی بھی رقم ان ننھی جانوں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی اور نہ ہی ان کے والدین کے دل کا سکون واپس لا سکتی ہے، لیکن بات اصل میں ریاست کے احساس، درد کی سانجھ اور یکساں رویے کی ہے۔ ڈیرہ غازی خان کے اس بڑے سانحے کی خبر صرف مقامی اخبارات کے صفحات اور سوشل میڈیا کی پوسٹوں تک ہی محدود رہ گئی۔ اگرچہ مقامی انتظامیہ نے بھرپور کارروائی کرتے ہوئے اسکول اور عمارت کے مالک کو گرفتار کیا اور محمد احمد خان لغاری نے اسمبلی میں بھی توجہ دلائی، لیکن صوبے کی اس "سب دی ماں” کی طرف سے طاری رہنے والی گہری اور سرد خاموشی نے سوگوار دلوں میں کئی تلخ سوالات کو جنم دیا۔

جنوبی پنجاب کی ان گلیوں سے یہ سوال بار بار اٹھتے ہیں کہ کیا او سب دی ماں آ گئی اے… کر اپنا فرض ادا گئی اے؟ کیا لاہور کے والدین کا دکھ ڈیرہ غازی خان کے والدین سے زیادہ بڑا تھا؟ کیا لاہور کی ماؤں کے آنسو زیادہ نمکین اور قیمتی تھے اور ڈیرہ غازی خان کی ماؤں کے آنسوؤں کا رنگ ہلکا تھا؟ اگر دونوں جگہ درد ایک جیسا تھا، ملبے کا بوجھ ایک جیسا تھا اور معصوم بچوں کے چھوٹے چھوٹے کفن بھی ایک جیسے تھے، تو پھر حکومت کی ہمدردی اور انصاف کا ترازو کیوں بدل گیا؟ کیا ان کا معصوم خون لاہور کے بچوں کے خون سے سستا تھا؟ تلخ سچ تو یہ ہے کہ لاہور کیمروں، چمکتی اسکرینوں اور اقتدار کا شہر ہے، وہاں ہونے والا چھوٹا سا حادثہ بھی پل بھر میں قومی سرخی بن جاتا ہے اور ٹاک شوز کا موضوع بنتا ہے۔ اس کے برعکس ڈیرہ غازی خان پنجاب کا وہ آخری اور پسماندہ کونا ہے جہاں قومی میڈیا پہنچتا ہے نہ کوئی بڑا اینکر اس پر بات کرتا ہے، اور شاید اسی لیے سب دی ماں کی مامتا بھی وہاں تک پہنچتے پہنچتے تھک جاتی ہے۔

سچی ماں تو دراصل وہ ہوتی ہے جو اپنے سب سے کمزور اور دور بیٹھے بچے کو سب سے پہلے اپنے سینے سے لگاتی ہے، جس کی پکار دنیا میں سب سے دھیمی، بے بس اور لاچار ہوتی ہے۔ اگر "سب دی ماں” کا یہ خوبصورت اور مقدس تصور صرف چمکدار اشتہارات، سرکاری تقریبات کی پرجوش تقریروں اور ٹی وی اسکرینوں کے فریم تک ہی محدود رہے، تو پھر یہ مامتا نہیں بلکہ ایک سوتیلی ماں کا نظرانداز کرنے والا بیزار رویہ بن جاتا ہے۔ ریاست کی حقیقی مامتا کا اصل امتحان اقتدار کے مرکز اور چمکتے دمکتے شہروں کو نوازنے میں نہیں، بلکہ دور دراز کی پسماندہ گلیوں اور قبروں پر بیٹھ کر رونے والوں کے گہرے زخموں پر مرہم رکھنے میں ہے، جہاں آج بھی چار معصوم بچوں کے دکھی والدین خاک پر بیٹھے ریاست سے یہی پوچھ رہے ہیں کہ کیا ان کے لختِ جگر پنجاب کے بچے نہیں تھے؟

آخر میں سوال صرف چار معصوم بچوں یا دو مختلف شہروں کا نہیں، بلکہ ریاست کے یکساں رویے اور انصاف کا ہے۔ اگر ایک ہی صوبے میں ایک سانحے پر حکومتی شفقت، مالی امداد اور فوری توجہ میسر آئے، جبکہ دوسرے سانحے کے متاثرین کے حصے میں خاموشی، بے اعتنائی اور مجرمانہ بے حسی آئے، تو پھر یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ کیا واقعی وزیراعلیٰ پنجاب سب کی ماں ہیں یا پھر بعض بچوں کے لیے سوتیلی ماں؟ ایک حقیقی ماں اپنے تمام بچوں کے درد کو ایک جیسا محسوس کرتی ہے، ان کے آنسوؤں کی قیمت شہروں، فاصلے یا سیاسی اہمیت سے نہیں تولتی۔ جب تک پنجاب کے ہر شہر، ہر گاؤں اور ہر مظلوم خاندان کو بلاامتیاز ایک جیسا احساس، ایک جیسا انصاف اور ایک جیسی شفقت نہیں ملتی، تب تک "سب دی ماں” کا دعویٰ ایک خوبصورت سیاسی نعرہ تو ہو سکتا ہے، مگر ایک ناقابلِ تردید حقیقت نہیں۔ شاید اسی لیے آج بھی ڈیرہ غازی خان کے سوگوار والدین اپنے ویران آنگنوں میں بیٹھے ریاست سے یہی سوال کر رہے ہیں کہ آخر ہم بھی تو اسی پنجاب کے باسی ہیں، ہمارے بچے بھی پنجاب ہی کی مٹی میں پیدا ہوئے تھے، تو پھر ہمارے حصے میں ماں کی ممتا کیوں نہ آ سکی؟ اور ہمارے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیوں روا رکھا گیا؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے