اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں خاتون کو مبینہ طور پر اغوا کی کوشش سے بچاتے ہوئے پاک فضائیہ کے گروپ کیپٹن عاصم طارق جامِ شہادت نوش کر گئے۔ ابتدائی تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ ملزم خاتون کا دفتر میں کولیگ تھا، جو اسے کام پر ساتھ لے جانے کے بہانے کسی اور مقام پر لے جانا چاہتا تھا۔
پولیس کے مطابق واقعہ نائنتھ ایونیو کے قریب پیش آیا، جہاں گروپ کیپٹن عاصم طارق وہاں سے گزر رہے تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ ایک موٹرسائیکل سوار ایک خاتون کو زبردستی اپنے ساتھ لے جانے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کا ہاتھ کھینچ رہا ہے۔ صورت حال دیکھ کر گروپ کیپٹن عاصم واپس مڑے اور اپنی گاڑی موٹرسائیکل کے قریب روک دی۔
رپورٹ کے مطابق گروپ کیپٹن کی مداخلت پر خاتون فوراً گاڑی کی دوسری جانب آ کر محفوظ ہو گئی، تاہم مبینہ ملزم سعد نے گروپ کیپٹن عاصم کے ساتھ تلخ کلامی شروع کر دی اور چند ہی لمحوں بعد ان پر فائرنگ کر دی۔ گولی لگنے سے گروپ کیپٹن عاصم شدید زخمی ہوئے اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی شہید ہو گئے، جبکہ ملزم فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔
پولیس کے مطابق خاتون نے بیان دیا ہے کہ ملزم اس کا دفتر میں کولیگ تھا، جس نے اسے کام پر ساتھ لے جانے کی پیشکش کی تھی، مگر راستے میں اس نے اپنا راستہ تبدیل کر لیا اور اسے کسی دوسری جگہ لے جانے کی کوشش کی، جس پر دونوں کے درمیان مزاحمت شروع ہو گئی۔ خاتون کا کہنا تھا کہ گروپ کیپٹن عاصم کی بروقت مداخلت نے اسے محفوظ کر دیا۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور ملزم کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
گروپ کیپٹن عاصم طارق اپنے سوگواران میں بیوہ، ایک بیٹی اور ایک بیٹا چھوڑ گئے ہیں۔ ان کی قربانی پر ملک بھر میں انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ قومی اور سوشل میڈیا پر انہیں خواتین کے تحفظ کے لیے اپنی جان قربان کرنے والے بہادر افسر کے طور پر یاد کیا جا رہا ہے۔ ان کی شہادت کو انسانیت، فرض شناسی اور جرات کی ایک روشن مثال قرار دیا جا رہا ہے۔