ایران نے اپنے شہید رہبرِ اعلیٰ کو سپردِ خاک کر دیا، تہران میں لاکھوں افراد کی شرکت

تہران (کیو این این ورلڈ) ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے چار شہید افراد کی نمازِ جنازہ اتوار کے روز تہران میں انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ ادا کر دی گئی، جس میں لاکھوں سوگواروں نے شرکت کرکے اپنے قائد کو پرسوز انداز میں الوداع کہا۔

نمازِ جنازہ تہران کے مصلیٰ امام خمینی میں ممتاز شیعہ مذہبی رہنما آیت اللہ جعفر سبحانی کی اقتدا میں ادا کی گئی۔ اس موقع پر ایران کے صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ احمد وحیدی، قدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قانی، اعلیٰ عسکری و حکومتی حکام، ممتاز مذہبی شخصیات، مختلف ممالک کے نمائندے اور لاکھوں شہری شریک ہوئے۔

شہید رہبرِ اعلیٰ کے تین بیٹے، مسعود خامنہ ای، میثم خامنہ ای اور مصطفیٰ خامنہ ای نمازِ جنازہ کی پہلی صف میں موجود تھے اور اپنے والد کو آخری الوداع کہتے ہوئے جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے۔ تاہم ایرانی اور بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق موجودہ رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای نمازِ جنازہ میں شریک نہیں ہوئے۔

نمازِ جنازہ کے بعد لاکھوں افراد نے جلوس کی صورت میں آخری رسومات میں بھی شرکت کی۔ شرکا نے ہاتھوں میں ایرانی پرچم، شہید رہبرِ اعلیٰ کی تصاویر اور بینرز اٹھا رکھے تھے جبکہ فضا میں دعاؤں، نوحہ خوانی اور مذہبی نعروں کی گونج سنائی دیتی رہی۔ ملک بھر سے آنے والے عوام نے اپنے قائد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی خدمات کو زبردست الفاظ میں سراہا۔

دوسری جانب نمازِ جنازہ اور آخری رسومات کے موقع پر تہران کے میٹرو نیٹ ورک پر بھی غیر معمولی رش دیکھنے میں آیا۔ ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نیوز کے مطابق ہفتے کی شام ساڑھے پانچ بجے سے اتوار کی صبح سات بجے تک صرف چند گھنٹوں کے دوران تہران میٹرو کے ذریعے 70 لاکھ سے زائد مسافروں نے سفر کیا، جو معمول کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ تھا۔

ایرانی حکام نے عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ نجی گاڑیوں کے بجائے میٹرو اور دیگر عوامی ٹرانسپورٹ استعمال کریں تاکہ ٹریفک کے دباؤ کو کم کیا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے تہران میٹرو انتظامیہ نے اضافی ٹرینیں چلائیں، مختلف اسٹیشنوں پر عملے کی تعداد میں اضافہ کیا اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے۔

حکام کے مطابق نمازِ جنازہ اور تدفین کی تقریبات میں شرکت کے لیے ایران کے مختلف شہروں سے لاکھوں افراد تہران پہنچے، جس کے باعث سڑکوں، میٹرو اور دیگر ذرائع آمدورفت پر غیر معمولی دباؤ رہا، تاہم مؤثر انتظامات کے باعث شرکا کی بڑی تعداد کو تقریب کے مقامات تک بحفاظت پہنچانے میں کامیابی حاصل ہوئی اور ٹریفک کی صورتحال کو بھی بڑی حد تک قابو میں رکھا گیا۔

شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں ایران کی سیاسی، عسکری اور مذہبی قیادت کے علاوہ مختلف ممالک کے نمائندوں نے بھی شرکت کی، جبکہ لاکھوں سوگواروں نے اپنے رہبر کو اشکبار آنکھوں کے ساتھ رخصت کرتے ہوئے ان کی سیاسی، مذہبی اور قومی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے