سیالکوٹ (کیو این این ورلڈ) بیوروچیف مدثر رتو: سیالکوٹ کے تھانہ کوٹلی کی حدود میں 13 سالہ طالب علم کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے اور نازیبا حرکات کا نشانہ بنانے کے الزام میں پولیس نے مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کر دی ہے۔
پولیس کو دی گئی درخواست کے مطابق بچے کی والدہ عظمیٰ خالد زوجہ خالد محمود، سکنہ پھولوں والی گلی سیالکوٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ 23 اکتوبر 2026 کو صبح تقریباً 8 بج کر 15 منٹ پر ان کا 13 سالہ بیٹا عبدالرحمان سکول جا رہا تھا کہ راستے میں دانش ولد احسان الحق، سکنہ محلہ کھٹیکاں، اور اس کے نامعلوم ساتھیوں نے مبینہ طور پر اسے روک کر بوس و کنار اور دیگر نازیبا حرکات کیں اور ہراساں کیا۔
درخواست گزار کے مطابق بچے نے گھر پہنچ کر اپنی والدہ کو واقعے سے آگاہ کیا، جس کے بعد انہوں نے تھانہ کوٹلی میں تحریری درخواست جمع کرائی۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق واقعے کا مقدمہ نمبر 587/26، تھانہ کوٹلی ضلع سیالکوٹ میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 377-B کے تحت درج کیا گیا۔ مقدمے کے اندراج کی اطلاع 24 اکتوبر 2026 کو رات تقریباً ڈیڑھ بجے ریکارڈ کی گئی۔
کیس کی تفتیش اے ایس آئی محمد اسحاق کے سپرد کی گئی ہے، جبکہ مقدمہ ایس آئی/ایس ایس او آئی یو سیالکوٹ سرکل کو بھی بھجوا دیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے۔
