بی آئی ایس پی سے ایک لاکھ 40 ہزار سے زائد سرکاری ملازمین نے رقم وصول کی، قومی اسمبلی میں تفصیلات پیش

اسلام آباد(کیو این این ورلڈ)بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) میں 24 ارب روپے سے زائد کی سنگین مالی بے ضابطگیوں اور بدعنوانیاں کا انکشاف ہوا ہے۔ مستحق، غریب اور نادار خاندانوں کی کفالت کے لیے مختص کیے گئے اربوں روپے کا فنڈ مبینہ طور پر ایک لاکھ 40 ہزار 488 سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ باقاعدگی سے وصول کرتے رہے۔

وزارتِ تخفیفِ غربت کی جانب سے قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیش کی گئی آفیشل دستاویزات کے مطابق، اتنی بڑی سطح پر ہونے والی مالی بے ضابطگیوں اور ناہلی کے باوجود اب تک مجموعی طور پر صرف 70 کروڑ 65 لاکھ روپے (تقریباً 71 کروڑ روپے) کی ہی ریکوری ممکن ہو سکی ہے، جو کہ کل رقم کا نہایت معمولی حصہ ہے۔

قومی اسمبلی میں پیش کردہ سالانہ ریکارڈ کے مطابق، مالی سال 2019-20 کے دوران سرکاری ملازمین اور پنشنرز نے بی آئی ایس پی کے خزانے سے 23 ارب 13 کروڑ روپے کی بھاری رقم سمیٹی۔ سنسنی خیز انکشاف یہ بھی ہوا ہے کہ سال 2019 میں ان بے ضابطگیوں کی نشاندہی ہو جانے کے باوجود اگلے 6 سال تک یہ غیر قانونی ادائیگیاں مسلسل جاری رہیں۔ حتیٰ کہ ملازمین کی باقاعدہ نشاندہی ہو جانے کے بعد بھی 90 کروڑ روپے کے مزید فنڈز جاری کیے گئے۔

دستاویزات کے مطابق مالی سال 2020-21 میں 12 ہزار سے زائد سرکاری ملازمین نے 14 کروڑ 67 لاکھ روپے وصول کیے۔ اسی طرح مالی سال 2021-22 میں 2 ہزار 447، مالی سال 2022-23 میں 2 ہزار 235، مالی سال 2023-24 میں 227 اور مالی سال 2024-25 میں 12 ہزار 78 سرکاری ملازمین بی آئی ایس پی کے فنڈز غیر قانونی طور پر حاصل کرتے رہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس سنگین بے ضابطگی میں سرکاری ملازمین کے ساتھ ان کے شریکِ حیات بھی برابر کے شریک رہے، جبکہ خود بی آئی ایس پی کے اپنے 236 ملازمین بھی مستحقین کا حق مارنے والوں میں شامل پائے گئے۔

اب تک ہونے والی ریکوری کی صورتِ حال سے پتہ چلتا ہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے ملوث ملازمین سے 54 کروڑ روپے وصول کیے ہیں، جبکہ دیگر سرکاری محکموں نے 14 کروڑ 50 لاکھ روپے ریکور کیے۔ اس کے علاوہ بی آئی ایس پی نے اپنے ملوث ملازمین سے 2 کروڑ 15 لاکھ روپے کی وصولی کی ہے۔ اس طرح مجموعی طور پر محض 71 کروڑ روپے ہی سرکاری خزانے میں واپس آ سکے۔

بی آئی ایس پی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان مالی بے ضابطگیوں میں ملوث تمام سرکاری ملازمین کا تمام تر ریکارڈ متعلقہ محکموں کو بھیج دیا گیا ہے تاکہ ان کے خلاف سخت محکماتی و قانونی کارروائی کی جا سکے۔ مزید برآں، کیس کی مکمل اور شفاف چھان بین کے لیے مزید 6 لاکھ سے زائد سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تاہم 24 ارب روپے کی دیوہیکل رقم کے مقابلے میں اب تک ہونے والی برائے نام ریکوری نے ملک کے اندر سرکاری نگرانی، شفافیت اور احتساب کے موجودہ نظام پر سنگین سوالیہ نشان ثبت کر دیے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے