خیبر (کیو این این ورلڈ/نامہ نگار نور حلیم آفریدی) ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ میں جنگلات کی غیر قانونی کٹائی اور لکڑی کی سمگلنگ ناکام بنانے کے لیے پولیس کی کارروائی کے بعد محکمہ جنگلات کی کارکردگی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں تاکہ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث عناصر، لکڑی کی نقل و حمل کے راستوں اور متعلقہ محکموں کی ذمہ داریوں کا تعین کیا جا سکے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر علاقے میں جنگلات کی غیر قانونی کٹائی اور لکڑی کی نقل و حمل کے خلاف پولیس کارروائیاں کر رہی ہے تو محکمہ جنگلات کی نگرانی اور روک تھام کے لیے کیے گئے اقدامات کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق تحقیقات کے ذریعے یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ جنگلات کے تحفظ کے لیے متعلقہ حکام نے کیا اقدامات کیے اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے نگرانی کا نظام کس حد تک مؤثر رہا۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈی ایف او خیبر زاہد محسود اور باڑہ میں طویل عرصے سے تعینات ایس ڈی ایف او اعجاز سے بھی متعلقہ معاملات پر وضاحت طلب کی جائے۔ ان کے مطابق یہ جاننا ضروری ہے کہ علاقے میں جنگلات کی غیر قانونی کٹائی اور لکڑی کی نقل و حمل روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے، لکڑی کن راستوں سے منتقل کی جاتی ہے اور متعلقہ حکام کو ان سرگرمیوں کے بارے میں کب سے آگاہی تھی۔
عوامی حلقوں نے زور دیا ہے کہ تحقیقات میں یہ بھی دیکھا جائے کہ جنگلات کی حفاظت اور غیر قانونی کٹائی کی روک تھام کے سلسلے میں متعلقہ محکموں کی ذمہ داریاں کیا تھیں اور نگرانی کے باوجود ایسی سرگرمیوں کی اطلاعات سامنے آنے کی وجوہات کیا ہیں۔ اگر کسی سرکاری اہلکار یا دوسرے فرد کی غفلت، سہولت کاری یا ملی بھگت ثابت ہو تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
شہریوں کے مطابق جنگلات قدرتی ماحول اور ماحولیاتی توازن کے لیے اہم ہیں، اس لیے ان کے تحفظ کے معاملے کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس کی کارروائی اور لکڑی کی مبینہ سمگلنگ کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات کرکے حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں اور مستقبل میں غیر قانونی کٹائی و نقل و حمل کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
واقعے سے متعلق ویڈیو مناظر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لکڑی سے لدے ہائی لکس ڈالے قطار کی صورت میں موجود ہیں ،جنہیں پولیس نے روک رکھا ہے۔ ان مناظر نے علاقے میں لکڑی کی نقل و حمل اور جنگلات کے تحفظ کے لیے متعلقہ محکموں کے اقدامات پر سوالات اٹھا دیے ہیں