گھوٹکی (کیو این این ورلڈ / نامہ نگار مشتاق علی لغاری) گھوٹکی کے قریب گاؤں عبداللہ لکھن میں زمین کے تنازع پر لکھن برادری کے خواتین اور مردوں نے مبینہ ناانصافی کے خلاف قرآن پاک اٹھا کر احتجاج کیا اور اعلیٰ پولیس حکام سے انصاف، شفاف تحقیقات اور جان و مال کے تحفظ کی اپیل کی۔
احتجاج میں شریک مائی نظیران، مائی ظوران، مائی نوران اور رفیق احمد نے الزام عائد کیا کہ عبدالحمید اور دیگر افراد نے زمین کے تنازع پر ان کے گھر پر چڑھائی کی، خواتین کو تشدد کا نشانہ بنایا اور گھر کا سامان لے گئے۔
متاثرین نے مزید دعویٰ کیا کہ اے سیکشن تھانہ گھوٹکی کی پولیس نے ان کے تین افراد کو حراست میں لینے کے بعد لاپتا کر دیا ہے۔ متاثرہ خاندان کے مطابق اس صورتحال کے باعث انہیں انصاف اور تحفظ کے حوالے سے شدید تشویش لاحق ہے۔
احتجاج کرنے والے خاندان نے آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی گھوٹکی سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کا نوٹس لے کر تمام الزامات کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں، حراست میں لیے گئے افراد کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں اور قانون کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے انہیں تحفظ فراہم کیا جائے۔
دوسری جانب اے سیکشن تھانہ گھوٹکی اور متعلقہ پولیس حکام کا مؤقف تاحال موصول نہیں ہوا، جبکہ عبدالحمید اور دیگر نامزد افراد کا جواب بھی سامنے نہیں آیا۔ متعلقہ فریقین کا مؤقف موصول ہونے پر اسے خبر کا حصہ بنایا جائے گا۔
واضح رہے کہ خبر میں بیان کردہ الزامات مظاہرین کے مؤقف پر مبنی ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق اور متعلقہ فریقین کا مؤقف سامنے آنا باقی ہے۔