میہڑ ( کیو این این ورلڈ/بیورو چیف ملک ظفر) راڈھن پریس کلب کے خزانچی اور سینئر صحافی صفدر راجپوت کو نئون گوٹھ لنک روڈ پر نامعلوم مسلح ملزمان نے فائرنگ کر کے بیدردی سے قتل کر دیا ہے، جبکہ اطلاع ملنے کے باوجود نئون گوٹھ پولیس نے مبینہ طور پر پہلے حدود کا تنازعہ کھڑا کیا اور تقریباً 2 گھنٹے کی مجرمانہ تاخیر کے بعد جائے وقوعہ پر پہنچی جس کے خلاف صحافی برادری سراپا احتجاج بن گئی۔ تفصیلات کے مطابق میہڑ نئون گوٹھ تھانے کی حدود میں فیض محمد آگرو اسٹاپ کے قریب گھات لگائے نامعلوم مسلح ملزمان نے راڈھن پریس کلب کے خزانچی صفدر راجپوت پر اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں صحافی صفدر راجپوت موقع پر ہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔

ذرائع کے مطابق واقعے کا سب سے افسوسناک پہلو نئون گوٹھ پولیس کا رویہ رہا جس نے سنگین واقعے کی اطلاع کے باوجود روایتی سستی کا مظاہرہ کیا اور دو گھنٹے تک حدود کے چکر میں کارروائی سے گریز کرتی رہی، بعد ازاں پیپلز یوتھ آرگنائزیشن دادو کے ضلعی صدر مرتضیٰ گورڑ کی جانب سے ایس ایس پی دادو سے خصوصی رابطہ کرنے پر ایس ایچ او نئون گوٹھ پولیس نفری کے ہمراہ حرکت میں آئے۔ ریسکیو 1122 کی ٹیم نے مقتول صحافی کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے تحصیل ہسپتال میہڑ منتقل کیا جہاں پوسٹ مارٹم کے مراحل مکمل ہونے کے بعد میت غمزدہ ورثاء کے حوالے کر دی گئی، تاہم آخری اطلاعات تک نئون گوٹھ تھانے میں واقعے کا مقدمہ درج نہیں ہو سکا تھا۔

صحافی صفدر راجپوت کے بے رحمانہ قتل اور پولیس کی غفلت کے خلاف راڈھن اور میہڑ پریس کلب کے صحافیوں ذوالفقار جونیجو، کامریڈ شمن سولنگی، منیر سومرو، دربان کوکر، امیر علی کوہارو، عامر شیخ اور دیگر معززین نے تعلقہ اسپتال میہڑ میں جمع ہو کر شدید احتجاج کیا اور نعرے بازی کی۔ اس موقع پر صحافتی رہنماؤں نے بزدلانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اعلان کیا کہ جب تک ملوث ملزمان کو گرفتار نہیں کیا جاتا ان کا احتجاجی سلسلہ جاری رہے گا۔ صحافتی تنظیموں نے آئی جی سندھ اور وزیر اعلیٰ سندھ سے واقعے کا فوری نوٹس لینے اور قاتلوں کی گرفتاری سمیت غفلت برتنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے