مدینہ السادات اوچ شریف کے جلیل القدر صوفی بزرگ: حضرت سید جلال الدین حیدر سرخ پوش بخاری کا سوانحی جائزہ

سرائیکی خطے کی عظیم روحانی ہستی: حضرت سید شیر شاہ جلال الدین حیدر سرخ پوش بخاری کی حیات و تعلیمات
تحریر: ڈاکٹر محمد الطاف ڈاہر جلالی
سرائیکی وسیب اور تصوف لازم و ملزوم ہیں، اور صوفی ازم اس دھرتی کی اصل روحانی دھڑکن ہے۔ سرائیکی خطے کو سرزمینِ اولیاء کرام کہا جاتا ہے جہاں ملتان شریف، اوچ شریف، کوٹ مٹھن، پاک پتن، اور تونسہ شریف جیسے روحانی مراکز صدیوں سے انسانیت کے فکری، اخلاقی اور روحانی مسائل کا حل پیش کر رہے ہیں۔ ان پاکیزہ آستانوں میں اوچ شریف کو ایک نمایاں اور عالمی عرفانی مقام حاصل ہے۔

حضرت سید جلال الدین حیدر سرخ پوش بخاری رحمتہ اللہ علیہ ازبکستان کے شہر بخارا میں 5 ذوالحجہ 595ھ (1190ء) کو حضرت سید ابو الموید علی بن جعفر رحمتہ اللہ علیہ کے گھر پیدا ہوئے۔ آپ کا سلسلہ نسب انیس واسطوں سے حضرت عبدالمطلب تک جا ملتا ہے۔ بخارا سے نسبت کی وجہ سے آپ "بخاری” کہلائے، جبکہ آپ کے القابات میں سرخ پوش بخاری، میر سرخ، شیر شاہ، سخی بادشاہ اور شہنشاہ ولایت شامل ہیں۔ آپ کا نسبی تعلق حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ سے ہے۔

آپ کی حیات طیبہ بچپن ہی سے روحانی کمالات کی حامل تھی۔ آپ نے بخارا، نجف اشرف، مدینہ منورہ اور بیت المقدس سمیت کئی مقامات کی زیارتیں کیں اور علم و معرفت کے بیش بہا خزانے حاصل کیے۔ روایت کے مطابق آپ کو کم عمری میں ہی سرکارِ دو عالم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کا شرف حاصل ہوا اور آپ کو دستارِ مبارک کے وارث ہونے کی نوید ملی۔

حضرت شیر شاہ جلال الدین حیدر سرخ پوش بخاری رحمتہ اللہ علیہ اپنے والد بزرگوار کے حکم پر اور سلسلہ سہروردیہ کے توسط سے خطۂ ملتان اور اوچ شریف تشریف لائے۔ آپ نے اپنی تبلیغ، اخلاقِ حسنہ اور اعلیٰ کردار سے ہزاروں غیر مسلموں کو دائرہ اسلام میں داخل کیا۔ آپ کے فیضِ صحبت سے علاقے کے متعدد قبائل اور عوام الناس میں امن، رواداری، احترامِ آدمیت اور اخلاقی اقدار کو فروغ ملا۔

آپ نے بخارا اور اوچ شریف میں نکاح فرمائے۔ آپ کی زوجہ محترمہ بی بی فاطمہ کے بطن سے حضرت سید احمد سلطان کبیر رحمتہ اللہ علیہ پیدا ہوئے، جن کے ہاں آگے چل کر مشہور صوفی بزرگ حضرت سید جلال الدین حسین جہانیاں جہاں گشت رحمتہ اللہ علیہ کی ولادت ہوئی، جنہوں نے سرائیکی اور سندھی خطے میں اسلام کی اشاعت میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔

یہ جلیل القدر صوفی بزرگ 19 جمادی الاول 690ھ (20 مئی 1291ء) کو اس دارِ فانی سے پردہ فرما گئے۔ اوچ شریف میں آپ کا مزارِ مبارک مرجعِ خلائق ہے۔ آپ کی حیات و تعلیمات نہ صرف روحانی سکون کا ذریعہ ہیں بلکہ اخلاقی و سماجی تربیت کا بہترین نمونہ بھی ہیں۔ امروز کے پُرآشوب دور میں امن، محبت، رواداری اور بھائی چارے کے فروغ کے لیے آپ کے افکار کو عام کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ معاشرے سے نفرت، انتہا پسندی اور ناانصافی کا خاتمہ کیا جا سکے۔

حوالہ جات و کتبِ ریفرنس:

تذکرہ سادات بخاریہ، علامہ صفدر رضا قادری، 2016ء
فیضان اولیاء اوچ شریف، سید محمد نفیس نقوی، جہاں گشت پبلیکیشنز لاہور
تذکرہ اولیائے اوچ شریف، علامہ دین محمد عباسی اوچوی، 2020ء
تاریخ فرشتہ، محمد قاسم فرشتہ
سفر نامہ ابن بطوطہ، ابن بطوطہ
مدینہ اولیاء، عبدالشکور قادری
خزینہ اصفیاء، مفتی غلام سرور لاہوری
تاریخ اوچ، مولوی حفیظ الرحمن بہاولپوری
خطہ پاک اوچ، سید مسعود حسن شہاب دہلوی
اوچ، آثار و قدامت، زبیر شفیع غوری
گلزار محمدی، خلیفہ منظور احمد لنگاہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے