خیبر: دہائیوں کی محرومی اور دعوے دھرے کے دھرے، اپر باڑہ کے عوام دریائے باڑہ پر پل نہ ہونے پر مجبورِ سفر

خیبر (کیو این این ورلڈ / نامہ نگار نور حلیم آفریدی)دریائے باڑہ پر رابطہ پل کی عدم موجودگی نے اپر باڑہ سپاہ کے عوام کے لیے زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ 78 سالہ طویل محرومیوں اور گذشتہ 13 سالہ سیاسی تبدیلی کے دعوؤں کے باوجود زمینی حقائق تبدیل نہ ہو سکے، اور آج بھی علاقے کے مکین بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں۔ معمولی بارش یا سیلاب کے دوران دریا کا کٹااؤ پورے علاقے کو باقی دنیا سے کاٹ دیتا ہے، جس سے روزمرہ کی زندگی مفلوج ہو کر رہ جاتی ہے۔

علاقے میں رابطہ پل نہ ہونے کے باعث مریضوں کی زندگیوں سے کھلواڑ ہو رہا ہے۔ لوگ اپنے بیماروں، خواتین اور بچوں کو چارپائیوں پر اٹھا کر اور خچروں پر لاد کر 5 کلومیٹر تک پیدل سفر کرنے پر مجبور ہیں تاکہ سڑک تک پہنچ سکیں۔ اس کٹھن اور خطرناک سفر کے بعد کہیں جا کر گاڑی میسر آتی ہے، جس سے مریضوں کو گھنٹوں کا سفر طے کر کے باڑہ یا پشاور منتقل کیا جاتا ہے۔ ایمرجنسی اور زچہ و بچہ کی حالت میں اس طویل اور دشوار گزار سفر کے دوران مریضوں کی صحت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

قومی مشران واک خان، حشمت خان، حاجی ماصل خان، خدمت خلق ویلفیئر سوسائٹی کے کوآرڈینیٹر برائے اپر باڑہ قاضی فرمان، علاقہ مکینوں اور سوشل ایکٹیویسٹ طارق خان نے ایک نوجوان مریض کو چارپائی پر اٹھا کر دریا پار کراتے ہوئے شدید دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام ریاست کے بچوں کی مانند ہوتے ہیں لیکن یہاں ریاست کی توجہ سے محروم انسانیت سسک رہی ہے۔

مشرانو اور عوام نے حکومتِ وقت، گورنر خیبرپختونخوا، کور کمانڈر پشاور اور آئی جی ایف سی نارتھ کے پی سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ انسانی ہمدردی کو مدنظر رکھتے ہوئے اپر باڑہ میں دریائے باڑہ پر رابطہ پل کی تعمیر کی فوری منظوری دی جائے، تاکہ اس پسماندہ خطے کے عوام کی دیرینہ مشکلات کا خاتمہ ہو سکے اور شہریوں کو سفری سہولیات میسر آ سکیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے