کراچی(کیو این این ورلڈ/ ڈاکٹر بشیراحمد بلوچ کی رپورٹ) شہر قائد کے علاقے سہراب گوٹھ میں قائم ایدھی سینٹر پر دن دہاڑے مسلح ڈکیتی کی بڑی واردات پیش آئی، جہاں چار مسلح ملزمان عملے سے 65 لاکھ روپے چھین کر فرار ہوگئے۔ واقعے کے بعد پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے آئی جی سندھ سے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے۔
ترجمان ایدھی فاؤنڈیشن کے مطابق سینٹر کے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے آج بینک سے 65 لاکھ روپے کی نقد رقم نکلوائی گئی تھی۔ جیسے ہی رقم ایدھی سینٹر پہنچائی گئی، دو موٹر سائیکلوں پر سوار چار مسلح ملزمان موقع پر پہنچے اور اسلحے کے زور پر رقم چھین کر فرار ہوگئے۔
پولیس حکام کے مطابق واقعے کے فوراً بعد جائے وقوعہ کا معائنہ کیا گیا اور ایدھی سینٹر کے ملازمین سے ابتدائی معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔ ملازمین کے بیان کے مطابق چاروں ملزمان نے شناخت چھپانے کے لیے ہیلمٹ پہن رکھے تھے، جس کے باعث ان کی شناخت میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی جا رہی ہے، جبکہ مختلف پہلوؤں سے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے ملزمان کی گرفتاری کے لیے شواہد اکٹھے کر رہے ہیں اور اطراف کے علاقوں میں بھی تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ پولیس سے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایدھی سینٹر غریبوں، ناداروں اور لاوارث افراد کا سہارا ہے، ایسے فلاحی ادارے پر ڈکیتی ناقابلِ قبول ہے۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ واقعے کی فوری اور شفاف تحقیقات کر کے ملوث ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے اور امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے