پنجاب کے تعلیمی بورڈز
تحریر: سید نذیر شاہ
پنجاب کے تعلیمی بورڈز جنوبی ایشیا کے بڑے امتحانی نظاموں میں شمار ہوتے ہیں۔ ہر سال لاکھوں طلبہ ان بورڈز کے تحت امتحانات دیتے ہیں اور ان کے نتائج ہی ان کے تعلیمی مستقبل کی سمت متعین کرتے ہیں۔ لاہور، گوجرانوالہ، راولپنڈی، فیصل آباد، سرگودھا، ملتان، بہاولپور، ساہیوال اور ڈیرہ غازی خان میں قائم یہ نو ڈویژنل بورڈز صوبے کے تعلیمی نظام کا اہم ستون ہیں۔ تاہم ان اداروں کے حقیقی کردار کو سمجھنے کے لیے یہ فرق واضح کرنا ضروری ہے کہ تعلیمی بورڈز روایتی معنوں میں درس و تدریس کے ادارے نہیں ہیں۔ یہ نہ خود طلبہ کو پڑھاتے ہیں اور نہ ہی نصاب سازی ان کی براہِ راست ذمہ داری ہے۔ نصاب کی تیاری پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ کے دائرۂ اختیار میں آتی ہے، جب کہ تعلیمی بورڈز کا بنیادی کام امتحانات کا انعقاد، نتائج کی تیاری اور اسناد کا اجرا ہے۔ گویا یہ ادارے ایک بڑے امتحانی انتظامی نظام کا حصہ ہیں، لیکن ان کی ذمہ داری محض پرچے لینے اور نتائج جاری کرنے تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ ان کی کارکردگی کا اصل پیمانہ یہ ہے کہ وہ لاکھوں طلبہ کو کس حد تک شفاف، منصفانہ اور قابلِ اعتماد امتحانی نظام فراہم کرتے ہیں۔

کسی بھی امتحانی نظام کی ساکھ اس کے معیار، شفافیت اور عوامی اعتماد سے قائم ہوتی ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں امتحانات کو محض کتابی معلومات اور یادداشت جانچنے کا ذریعہ نہیں سمجھا جاتا، بلکہ طلبہ کی فہم، تجزیاتی صلاحیت، تخلیقی سوچ اور علم کو عملی زندگی میں استعمال کرنے کی قابلیت بھی پرکھی جاتی ہے۔ فن لینڈ، سنگاپور اور کیمبرج جیسے تعلیمی نظاموں کے تجربات سے یہ سبق ملتا ہے کہ امتحانات کا مقصد صرف یہ دیکھنا نہیں ہونا چاہیے کہ طالب علم نے کتاب کے کتنے جملے یاد کیے ہیں، بلکہ یہ جانچنا بھی ضروری ہے کہ وہ سیکھے ہوئے علم کو کس حد تک سمجھتا اور مختلف حالات میں استعمال کر سکتا ہے۔ اس کے برعکس ہمارے ہاں امتحانی نظام کا بڑا حصہ اب بھی رٹنے، مخصوص کتابی زبان میں جواب لکھنے اور گائیڈز سے تیار کیے گئے مواد کو یاد کرنے کے گرد گھومتا ہے۔ اس طریقۂ امتحان میں طالب علم کی حقیقی قابلیت کے بجائے اس کی یادداشت کو زیادہ اہمیت مل جاتی ہے، جس کا نقصان پوری تعلیمی نسل کو اٹھانا پڑتا ہے۔

آئٹم بینک اس مسئلے کا ایک مؤثر حل ثابت ہو سکتا ہے، لیکن اس پر مؤثر اور جامع عمل درآمد کی ضرورت اب بھی اپنی جگہ موجود ہے۔ آئٹم بینک کوئی پیچیدہ یا ناقابلِ عمل تصور نہیں، بلکہ ساٹھ سال سے مختلف بین الاقوامی امتحانی نظاموں میں کامیابی سے استعمال ہونے والا طریقہ ہے۔ اس نظام کے تحت ماہرین نصاب کے مختلف حصوں، سوالات کی نوعیت اور مشکل کی سطح کو مدنظر رکھتے ہوئے سوالات کا ایک منظم، محفوظ اور کمپیوٹرائزڈ ذخیرہ تیار کرتے ہیں۔ ہر سوال کی جانچ اور معیار کی تصدیق کے بعد اسے اس ذخیرے میں شامل کیا جاتا ہے۔ پھر مقررہ اصولوں اور سافٹ ویئر کی مدد سے ایسا پرچہ تیار کیا جا سکتا ہے جس میں نصاب کے تمام اہم حصوں کی مناسب نمائندگی ہو اور سوالات کی مشکل بھی متوازن رہے۔ اگر آئٹم بینک شفاف اصولوں کے تحت نافذ کیا جائے تو پرچہ سازی میں انسانی مداخلت، پسند ناپسند اور سفارش کے امکانات ختم کیے جا سکتے ہیں، اور پرچہ لیک ہونے کے خطرے سے بھی نجات ممکن ہے۔

ہمارے امتحانی نظام کا ایک اور بڑا تضاد اعلیٰ تعلیم میں داخلوں کے وقت سامنے آتا ہے۔ ایک طالب علم نویں جماعت سے بارہویں جماعت تک مختلف امتحانات دیتا ہے، برسوں محنت کرتا ہے، اپنے تعلیمی اخراجات برداشت کرتا ہے اور ہر مرحلے پر حاصل ہونے والے نمبروں کو اپنی کارکردگی کا پیمانہ سمجھتا ہے۔ لیکن جب میڈیکل یا انجینئرنگ جیسے شعبوں میں داخلے کا مرحلہ آتا ہے تو انہی نمبروں کے ساتھ ایک الگ امتحان کی شرط بھی سامنے آتی ہے۔ ایم ڈی کیٹ جیسے داخلہ ٹیسٹوں کے چند گھنٹے بعض اوقات طالب علم کے برسوں کے تعلیمی سفر پر فیصلہ کن اثر ڈالتے ہیں۔ یوں ایک طالب علم کو اپنی قابلیت ثابت کرنے کے لیے بار بار امتحانی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے، جب کہ والدین کو اضافی تیاری، اکیڈمیوں اور داخلہ ٹیسٹوں پر مزید رقم خرچ کرنا پڑتی ہے۔ اگر اعلیٰ تعلیمی اداروں کو بورڈز کے نمبروں پر کامل بھروسہ نہیں، تو حکومت کی ذمہ داری ہے کہ تمام بورڈز کا امتحانی معیار اور مارکنگ یکساں بنائے تاکہ داخلہ ٹیسٹوں کے نفسیاتی و مالی بوجھ کو کم کیا جا سکے۔

تعلیمی بورڈز کے نظام پر اعتماد کو متأثر کرنے والا ایک اور حساس مسئلہ پیپر ری چیکنگ کا طریقۂ کار ہے۔ عام طور پر جب کسی طالب علم کو اپنے حاصل کردہ نمبروں پر شک ہوتا ہے تو وہ ری چیکنگ کے لیے درخواست دیتا ہے۔ اس کے ذہن میں یہ توقع ہوتی ہے کہ اس کے جوابات دوبارہ پڑھے جائیں گے اور غلط مارکنگ کی تصحیح کی جائے گی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بورڈز میں رائج ری چیکنگ کا عمل محض دوبارہ گنتی (Re-counting) تک محدود ہوتا ہے، جہاں کسی ممتحن کے دیے گئے غلط نمبروں کو بدلنے کا اختیار نہیں ہوتا۔ جب طلبہ کو ان کی چیک شدہ کاپی دیکھنے کا موقع بھی نہ ملے تو اس سے مایوسی اور بداعتمادی پیدا ہونا فطری ہے۔ اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ ای مارکنگ کے تحت طلبہ کو ان کی جانچ شدہ جوابی کاپی کا ڈیجیٹل عکس فراہم کیا جائے اور گنتی کے ساتھ ساتھ غیر جانب دار ماہرین سے پرچے کی حقیقی نظرثانی (Re-evaluation) کا شفاف طریقہ اختیار کیا جائے۔

اسی طرح طالب علم کے نام، والد کے نام یا تاریخِ پیدائش میں غلطی کی تصحیح بھی ایک ایسا معاملہ ہے جو بظاہر معمولی دکھائی دیتا ہے، لیکن متاثرہ طالب علم کے لیے برسوں کی پریشانی کا سبب بن سکتا ہے۔ اس مسئلے کا پائیدار حل ایک مربوط ڈیجیٹل نظام کی تشکیل میں پوشیدہ ہے۔ نویں جماعت میں پہلی رجسٹریشن کے وقت ہی بورڈ کے ڈیٹا کو نادرا (NADRA) سے براہِ راست ڈیجیٹل طور پر منسلک کر دیا جائے۔ ہر طالب علم کو ایک مستقل تعلیمی شناختی نمبر یا منفرد QR کوڈ الاٹ کیا جائے، جس کے تحت اس کی رجسٹریشن، امتحانی نتائج اور اسناد محفوظ رہیں۔ اس ایک اقدام سے میٹرک اور انٹر کے تمام امتحانات ایک ہی ڈیجیٹل پروفائل کے تحت آ جائیں گے، جس سے نام و کوائف کی غلطیوں کا خاتمہ ہوگا، امتحانی مراکز میں جعلی امیدواروں کی نشاندہی آسان ہو جائے گی اور اسناد کی آن لائن تصدیق لمحوں میں ممکن ہو سکے گی۔

حکومت اور تعلیمی بورڈز کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ امتحانی نظام محض ایک انتظامی مشق نہیں، بلکہ لاکھوں خاندانوں کے مستقبل سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ ایک اضافی نمبر کسی طالب علم کے لیے مطلوبہ اعلیٰ تعلیمی ادارے میں داخلے کا راستہ کھول سکتا ہے، جب کہ مارکنگ کی ایک غلطی اس کے برسوں کے خواب کو پاش پاش کر سکتی ہے۔ جس دن پنجاب کا ہر طالب علم یہ یقین رکھ سکے گا کہ اس کے رزلٹ کارڈ میں اس کی دن رات کی محنت کا منصفانہ عکس موجود ہے، اس کی جوابی کاپی کے بارے میں سوال اٹھانے کا حق تسلیم کیا جاتا ہے اور کسی انتظامی غلطی کی صورت میں اسے دفاتر یا عدالت کے چکر نہیں کاٹنے پڑتے، اسی دن تعلیمی بورڈز اپنے اصل مقصد کو حاصل کریں گے اور سچ مچ قابلِ فخر ادارے کہلائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے