اسلام آباد (کیو این این ورلڈ/ خصوصی رپورٹ)عام شہریوں کے لیے مہنگائی کے بوجھ میں کمی کے دعوؤں کے باوجود پیٹرولیم مصنوعات پر عائد بھاری ٹیکسز اور مارجنز نے اصل ریلیف کو محدود کر دیا ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق ایک لیٹر پیٹرول کی اصل ایکس ریفائنری قیمت 235 روپے 37 پیسے ہے، تاہم صارفین اسے 377 روپے 78 پیسے فی لیٹر خریدنے پر مجبور ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق فی لیٹر پیٹرول پر مجموعی طور پر تقریباً 142 روپے 41 پیسے مختلف ٹیکسز، لیویز اور مارجنز کی صورت میں وصول کیا جا رہا ہے، جس میں پیٹرولیم لیوی، کلائمیٹ سپورٹ لیوی اور دیگر آئل مارکیٹنگ و ڈیلر مارجنز شامل ہیں۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی (PDL) 116 روپے 8 پیسے فی لیٹر تک پہنچ چکی ہے، جس میں حالیہ عرصے کے دوران تقریباً 25 روپے کا اضافہ بھی کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کلائمیٹ سپورٹ لیوی 2 روپے 50 پیسے فی لیٹر وصول کی جا رہی ہے، جبکہ باقی رقم آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، ڈیلرز اور ان لینڈ فریٹ مارجنز پر مشتمل ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود مقامی سطح پر عوام کو مکمل ریلیف منتقل نہیں کیا جا سکا، جس کی بڑی وجہ لیویز اور ٹیکسوں میں اضافہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ آمدن حکومت کے مالی خسارے کو پورا کرنے اور آئی ایم ایف پروگرام کے اہداف کے تحت استعمال کی جا رہی ہے۔
عوامی حلقوں اور سوشل میڈیا پر اس صورتحال پر شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ جب عالمی سطح پر قیمتیں کم ہوتی ہیں تو مقامی سطح پر ریلیف محدود رہتا ہے، جبکہ اضافہ فوری طور پر صارفین تک منتقل کر دیا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق پیٹرولیم لیوی سے حاصل ہونے والا بڑا ریونیو حکومتی بجٹ میں اہم کردار ادا کرتا ہے، تاہم اس کا براہ راست اثر ٹرانسپورٹ، اشیائے خوردونوش اور مجموعی مہنگائی پر پڑ رہا ہے، جس سے عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
دوسری جانب حکومتی موقف کے مطابق مالی نظم و ضبط اور معاشی استحکام کے لیے یہ اقدامات ناگزیر ہیں، تاہم عوامی سطح پر فوری ریلیف کے مطالبات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔