پروفیسر ڈاکٹر شیر زمان سیماب کی تحقیقی و تدوینی کاوش پر ایک نظر
تحریر: وقاص خان
پشتو ادب کی روایت میں بعض کتابیں محض سوانحی دستاویز نہیں ہوتیں بلکہ وہ اپنے عہد کی فکری، تہذیبی اور ادبی روح کو محفوظ کر لیتی ہیں۔ ایسی ہی ایک وقیع، جامع اور دل نشیں کتاب “د سبحان ساجد ژوند او فکر و فن” ہے، جسے پروفیسر ڈاکٹر شیر زمان سیماب نے تحقیق، ترتیب اور ادبی دیانت کے ساتھ مرتب کر کے اہلِ علم و ادب کے سامنے پیش کیا ہے۔ یہ کتاب ایک شاعر کی زندگی ہی نہیں بلکہ اس کے فکری سفر، سماجی شعور اور تخلیقی جہتوں کا معتبر حوالہ بن کر سامنے آتی ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر شیر زمان سیماب پشتو ادب کا وہ معتبر نام ہیں جنہوں نے شخصیت نگاری کو محض تعریف تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے تحقیق، حوالہ اور تنقیدی شعور سے ہم آہنگ کیا۔ اس سے قبل پروفیسر محمد نواز طائر، فقیر شاہ مسکین اور حبیب الرحمان افگار جیسی قد آور ادبی شخصیات پر ان کا کام علمی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا، اور اب سبحان ساجد پر یہ کتاب اسی سنجیدہ روایت کا تسلسل ہے۔
یہ کتاب 132 صفحات پر مشتمل ہے، جس کی فلیپ پر ڈاکٹر اقبال فنا کی تحریر خود پروفیسر ڈاکٹر سیماب کے ادبی مقام اور خدمات کا اعتراف ہے۔ کتاب کا انتساب تاڼہ کے تمام شعراء و ادباء کے نام ہونا اس بات کی علامت ہے کہ یہ تصنیف فردِ واحد نہیں بلکہ پورے ادبی ماحول کے احترام میں پیش کی گئی ہے۔
ابتدائی ابواب میں پروفیسر ڈاکٹر سیماب نے سبحان ساجد کی زندگی، تعلیمی پس منظر، سماجی و اخلاقی اقدار اور تدریسی خدمات کا جامع مگر متوازن خاکہ پیش کیا ہے۔ 20 اپریل 1973 کو تاڼہ میں استاد محترم شیر مالک کے گھر پیدا ہونے والے سبحان ساجد نے 1988 میں ادبی دنیا میں قدم رکھا اور بہت کم عرصے میں اپنی الگ شناخت قائم کر لی۔ انہیں ایک سادہ، مخلص، حساس اور باوقار انسان کے طور پر پیش کیا گیا ہے—ایسا شاعر جو چھوٹی بات پر خوش اور چھوٹی بات پر غمگین ہو جاتا ہے، اور جس کی حساسیت اس کی شاعری میں گہرائی پیدا کرتی ہے۔
اس کتاب کا سب سے نمایاں وصف یہ ہے کہ اس میں صرف ایک مصنف کی رائے شامل نہیں بلکہ پاکستان اور افغانستان کے ممتاز اہلِ علم و قلم کی آراء بھی محفوظ کی گئی ہیں۔
محمد اسحاق مومند (علوم اکیڈمی، کابل، افغانستان) سبحان ساجد کی شاعری کو عوامی شعور اور قومی احساسات کا ترجمان قرار دیتے ہیں۔
فضل ستار خان فیاض، سابقہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل پاکستان پوسٹ آفس ساجد کے کلام میں زندگی کے تلخ حقائق کو سادہ اور مؤثر زبان میں بیان کرنے کی صلاحیت کو نمایاں کرتے ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر اباسین یوسفزئی، چیئرمین شعبہ پشتو، اسلامیہ کالج ساجد کو روایت اور جدت کے امتزاج کا شاعر قرار دیتے ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر عطاء الرحمان عطا، چیئرمین شعبہ پشتو، جہان زیب کالج سوات ان کی شاعری میں رومانیت، مقامیت اور قومیت کے حسین امتزاج کی نشاندہی کرتے ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر علی خیل دریاب، چیئرمین شعبہ پشتو، یونیورسٹی آف ملاکنڈ سبحان ساجد کو نئی نسل کا نمائندہ اور باشعور شاعر قرار دیتے ہیں۔
افغانستان سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر فرہاد مومند (ہرات یونیورسٹی) اور ڈاکٹر شھد رحیمی (علوم اکیڈمی، کابل) ساجد کی شاعری کو سرحدوں سے ماورا پشتو تہذیب کی آواز قرار دیتے ہیں۔
کتاب میں موضوعاتی تنوع بھی خاص توجہ کا مرکز ہے۔
مشہور مزاحیہ شاعر ساجد افغان نے سبحان ساجد کی مزاحیہ شاعری پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے اور ثابت کیا ہے کہ ساجد محض سنجیدہ یا رومانوی شاعر نہیں بلکہ صحت مند مزاح کا شعور بھی رکھتے ہیں۔
ڈاکٹر زبیر عقاب نے سبحان ساجد کی مذہبی شاعری کا تجزیہ کرتے ہوئے اس میں فکری توازن، عقیدت اور اخلاقی شعور کو نمایاں کیا ہے، جبکہ میاں فضل رحمان شاہد نے ساجد کے مرثیوں پر تفصیلی گفتگو کر کے ان کے کرب، درد اور فنی پختگی کو اجاگر کیا ہے۔
اسی طرح شھاب عمر خیل نے سبحان ساجد کی اردو شاعری اور نثر پر مختصر مگر بامعنی اظہارِ خیال کیا ہے، جو ان کی ہمہ جہت ادبی شخصیت کو مزید واضح کرتا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر شیر زمان سیماب کی تحقیقی دیانت کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے مواد کو نہایت سلیقے، ترتیب اور حوالہ جاتی توازن کے ساتھ پیش کیا ہے۔ یہ کتاب نہ جذباتی مبالغہ ہے اور نہ خشک تحقیق، بلکہ دونوں کے درمیان ایک ایسا اعتدال ہے جو قاری کو فکری آسودگی عطا کرتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ “د سبحان ساجد ژوند او فکر و فن” محض ایک کتاب نہیں بلکہ پشتو ادب کی تاریخ میں ایک محفوظ حوالہ ہے۔ یہ سبحان ساجد کے لیے خراجِ تحسین، پروفیسر ڈاکٹر شیر زمان سیماب کی علمی بصیرت کا اعتراف، اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن چراغ ہے۔
اللہ تعالیٰ کرے کہ پروفیسر ڈاکٹر شیر زمان سیماب کا قلم اسی طرح تحقیق، اخلاص اور ادب کی خدمت کرتا رہے، اور پشتو زبان و ادب کو ایسی ہی معیاری اور یادگار تصانیف نصیب ہوتی رہیں۔
بلاشبہ، یہ کتاب تعریف نہیں بلکہ ادبی تاریخ میں محفوظ کیے جانے کا کام ہے۔