ڈیرہ غازی خان(کیو این این ورلڈ) ملک بھر میں بجلی کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے، جہاں اوسط شارٹ فال ساڑھے تین ہزار میگاواٹ سے تجاوز کر چکا ہے جبکہ مہنگی بجلی کی دستیابی بھی متاثر ہونے کے باعث تمام تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) میں صورتحال ابتر ہو گئی ہے۔ پنجاب سمیت مختلف علاقوں میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
ذرائع کے مطابق نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی کا کہنا ہے کہ آر ایل این جی، ہائیڈرو پاور اور فرنس آئل کی قلت اس بحران کی بنیادی وجوہات ہیں۔ بجلی کی طلب اور رسد میں بڑھتے فرق کے باعث لوڈ شیڈنگ کا باقاعدہ شیڈول جاری نہ ہونے سے غیر اعلانیہ بندشوں کا سلسلہ جاری ہے، جس نے صارفین کی پریشانیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔
پنجاب میں بجلی کی فراہمی سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے جہاں شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں طویل دورانیے کی لوڈ شیڈنگ جاری ہے۔ لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی میں شارٹ فال 820 سے 1000 میگاواٹ تک پہنچ چکا ہے، جس کے باعث شہری علاقوں میں اوسطاً 8 گھنٹے جبکہ دیہی علاقوں میں 12 سے 16 گھنٹے تک بجلی کی بندش ہو رہی ہے۔ لاہور اور گردونواح میں پیر کی شام سے لوڈ شیڈنگ میں شدت دیکھی گئی، جہاں کئی علاقوں میں ہر گھنٹے بعد ایک گھنٹہ بجلی بند ہونے کی شکایات سامنے آئیں۔
لیسکو کے زیرِ انتظام علاقوں، جن میں لاہور، شیخوپورہ، قصور اور اوکاڑہ شامل ہیں، میں صارفین نے مغرب سے صبح تک طویل بندشوں کی شکایات کی ہیں، جس سے روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
دیگر ڈسکوز میں بھی صورتحال تشویشناک ہے۔ ملتان الیکٹرک پاور کمپنی کے علاقوں (ملتان، بہاولپور، رحیم یار خان، مظفر گڑھ، ڈیرہ غازی خان) میں 500 میگاواٹ سے زائد شارٹ فال رپورٹ ہوا ہے، جہاں دیہی علاقوں میں 12 سے 16 گھنٹے اور بعض شہروں میں 6 سے 8 گھنٹے لوڈ شیڈنگ جاری ہے۔ ملتان ڈویژن کو خاص طور پر شدید متاثر قرار دیا جا رہا ہے۔
اسی طرح فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی میں شہری علاقوں میں تقریباً 4 گھنٹے جبکہ دیہی علاقوں میں اس سے زیادہ دورانیہ کی بندش جاری ہے۔ گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی کے علاقوں میں شام سے صبح تک 6 سے 8 گھنٹے تک غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کی اطلاعات ہیں، جبکہ ساہیوال، قصور اور شیخوپورہ جیسے اضلاع میں بھی 4 سے 8 گھنٹے یا اس سے زائد بندش معمول بن چکی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جہاں پہلے 2 گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہوتی تھی، وہ اب بڑھ کر 6 گھنٹے یا اس سے زیادہ ہو گئی ہے، اور یہ صورتحال آئندہ چند روز تک برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔
قومی سطح پر تمام ڈسکوز متاثر ہیں، تاہم پنجاب میں طلب زیادہ اور آر ایل این جی پر انحصار زیادہ ہونے کے باعث بحران شدید ہے۔ اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی اور پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی بھی شارٹ فال سے متاثر ہیں، تاہم وہاں پنجاب جیسی شدید غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کی اطلاعات کم ہیں۔
سندھ میں حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کو پیک آورز میں جزوی استثنا دیا گیا ہے جبکہ کراچی الیکٹرک میں بھی نسبتاً بہتر صورتحال بتائی جا رہی ہے، اگرچہ بعض علاقوں میں مقامی مسائل کے باعث بندشیں جاری ہیں۔ بلوچستان میں کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی بھی قومی شارٹ فال سے متاثر ہے۔
حکومت کی جانب سے پیک آورز (شام 5 سے رات 1 بجے) میں محدود لوڈ مینجمنٹ کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم آر ایل این جی کی شدید کمی (طلب 350 ایم ایم سی ایف ڈی کے مقابلے میں صرف 80 ایم ایم سی ایف ڈی دستیاب) اور ہائیڈرو و آئل وسائل کی قلت نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے۔ فرنس آئل کی بڑھتی قیمتوں نے بجلی کی لاگت میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔
بجلی کی غیر اعلانیہ بندشوں کے خلاف عوامی ردعمل بھی سامنے آنا شروع ہو گیا ہے، اور اس حوالے سے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بجلی کی عدم دستیابی سے کاروبار، گھریلو معمولات اور تعلیمی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ گیس کی لوڈ شیڈنگ نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ بحران اس وقت تک برقرار رہ سکتا ہے جب تک آر ایل این جی اور دیگر توانائی ذرائع کی فراہمی میں بہتری نہیں آتی۔ پاور ڈویژن اور متعلقہ اداروں کی جانب سے آئندہ چند روز میں مزید صورتحال واضح ہونے کی توقع ہے۔