رائٹر کو اپنی تحریروں جیسا تو ہونا چاہیے!
تحریر: ظفر اقبال ظفر
تحریروں میں اچھی باتیں لکھنے والا رائٹر ضروری نہیں عملی زندگی میں بھی اچھا آدمی ثابت ہو۔ بہت سے مشہور رائٹر دیکھے ہیں جو رائٹر تو بڑے ہیں مگر آدمی چھوٹے ہیں۔ جو اپنی تحریروں میں نفاست، پاکیزگی، احساس و جذبات سے لبریز الفاظ و جملوں پر مبنی منظر کشی سے قارئین کی روح کو چھو لیتے ہیں، گمان ہوتا ہے آسمان سے اترے منظر ہیں مگر وہ ذاتی زندگی میں غیر معیاری گفتگو کرتے ہیں۔ ایک آدمی کے اندر بہت سے آدمی ہوتے ہیں، پرتیں ہٹنے یا ہٹانے والے حالات کا سامنا ہو تو پتا چل جاتا ہے۔ تین طرح کے لکھاری دریافت ہوئے ہیں؛ ایک جیسا لکھتے ہیں ویسے ہی خود ہوتے ہیں، دوسرے جیسا لکھتے ہیں اس سے بالکل مختلف ہوتے ہیں، اور تیسرے جو ملے جلے سے ہیں۔
سینکڑوں الفاظ بغیر غلطی کے تاثیر سے لبریز لکھنے والے رائٹر خوش بیانی میں ناکام ہوتے ہیں، چند جملے کیفیت آمیز لب و لہجے سے لوگوں کے سامنے نہیں بول سکتے۔ اس کے برعکس ایک اداکار جو رائٹر نہیں مگر ایک رائٹر کے جملوں سے اداکاری میں لفظی بیانی کے ذریعے انسانی اعصاب پر گہرا اثر چھوڑ دیتا ہے۔ باکردار رائٹرز بہت کم ہیں جو جیسا لکھتے ہیں ویسا بولتے بھی ہیں اور عام زندگی میں بھی اپنی تحریروں جیسا جیتے ہیں۔
دوسرے درجے کے رائٹر جن کی شاعری و تحریروں میں انسانی قدروں کی اعلیٰ ترجمانی ملتی ہے مگر ذاتی طور پر وہ لالچی، بدزبان اور بے فیض ہوتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ ان کے دماغ کا ایک قلمی حصہ خوبصورت ہے اور باقی عملی حصہ غیر معیاری ہے۔ لگتا ہے ساری اچھائی قلم کے ذریعے کاغذ پر اتار کر عام زندگی میں اچھائی سے خالی ہو جاتے ہیں۔ ان کا خلوص مفاداتی مال و شہرت کی غرض پر ہے یعنی مصنوعی حسن سلوک کی اداکاری کرتے ہیں۔ یہ فنکار بڑے ہیں مگر آدمی چھوٹے ہیں۔ کیمرے کے سامنے بہت متاثر کن و قیمتی اداکاری کرتے ہیں مگر خدا کے کیمروں کے سامنے اس کی مخلوق سے عملی طور پر بڑے آدمی کے احساس میں چھوٹے سلوک کرتے ہیں۔
انسانوں میں اداکار بہت ہیں مگر اداکاروں میں انسان بہت کم ملتے ہیں۔ ہر شخص نے اچھائی کا ایک اپنا طریقہ اور مقدار مقرر کی ہوتی ہے جو نسلی خصلت کا تعارف ہے۔ کچھ لوگ صرف اتنے ہی اچھے رہتے ہیں کہ ان سے کسی کو فائدہ نہیں مگر نقصان بھی نہیں پہنچ رہا، وہ اسی پر مطمئن ہیں۔ کچھ بڑی برداشت و ہمت کا ظرف رکھتے ہیں، فائدہ دے کر نقصان اپنے اعمال نامے میں صلے کے طور پر محفوظ کر لیتے ہیں۔ اس عمل کے اجر کا حسن میرے حسنِ بیان سے باہر ہے کیونکہ یہ خدائی معاملہ بن جاتا ہے۔
فن فروش انسان کسی کو مفت میں میسر ہونا خسارہ سمجھتے ہیں۔ شہرت سے دنیا کمانے والوں کو انسانیت کمانے کے گمان میں لانے سے پہلے انہیں معاملات کے ترازو میں تول لیں تاکہ ان کی بات اور ذات کا تضاد واضح ہو سکے۔ اداکاری کے ذریعے معاشرے میں مصنوعی رنگ بھرنے سے نام تو کمایا جا سکتا ہے مگر اجر نہیں، کیونکہ حقیقی کردار نبھانے سے بلند وقار اور اعلیٰ معیار میسر ہوتا ہے۔ ایسے باکردار لوگوں کے مرنے کے بعد بھی ان کی نیکیاں لکھنے والے فرشتوں کو چھٹی نہیں ملتی۔
علم کے سمندر سے عمل کا قطرہ زیادہ قیمتی ہے۔ یہ دنیا بڑی حیرت ناک و پراسرار ہے، یہاں اکثریت میں اچھائی کے پیچھے کمائی چھپی ہے جن کا نظریہ یہ ہے کہ "پیسا ہو چاہے جیسا ہو”۔ میرے نزدیک دنیا کی دولت خدا کا انسانی ایمان و معیار چیک کرنے والا ایک ٹیسٹر ہے جسے انسان بھی استعمال کر کے نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں۔ انسان ہو کر انسانیت کمانا ہی اصل خدائی کمائی ہے۔ بے وقعت کر دینے والی دولت کے تالاب میں غوطے کھا کر مرنے سے بہتر ہے غربت کی زمین پر خودداری کے فاقوں میں سینہ تان کر جیا جائے۔
یہ حیاتِ خودداری بڑے لوگوں کا انتخاب ہوتا ہے جو چھوٹے فن کو بھی منتخب کرتے ہیں تو اسے عزت دلا دیتے ہیں، ورنہ زیادہ تر چھوٹے لوگ بڑے فن کا انتخاب کر کے اس فن کی عزت کا لباس پہنے پھرتے ہیں۔ ان سے جب انسانی حسن سلوک کا واسطہ پڑتا ہے تو نتیجہ افسوس ناک نکلتا ہے۔ چھوٹا آدمی بڑے فن کو بھی چھوٹا بنا دیتا ہے اور بڑا آدمی چھوٹے فن کو بھی بڑا بنا دیتا ہے۔ بڑا آدمی بڑے فن سے وابستہ ہوتا ہے تو اس کے گزر جانے کے بعد بھی اس کی تخلیق زمانے میں ٹھہری رہتی ہے۔
عام لوگ وقتِ تخلیق میں محدود وقت کے لیے خاص ہو جاتے ہیں، یعنی جب وہ تخلیق کرتے ہیں تو وہ وہ نہیں ہوتے جو عام وقت میں ہوتے ہیں، اسی لیے عام وقت میں انہیں ملیں تو دوسرا شخص پاتے ہیں۔ عزت دلانے والا عمل عاجزی کا تقاضا کرتا ہے، مگر جب عاجزی کی بجائے غرور، تکبر اور بدسلوکی پاتا ہے تو آسمانی فضاؤں میں اڑنے والے کو زمینی پستیوں پہ لا کھڑا کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے اکثر شہرت پانے والے لوگ گمنامی میں نفسیاتی امراض کا شکار ہو جاتے ہیں۔
جو وقتِ شہرت میں احترامِ انسانیت بھول کر لوگوں کا مذاق اڑایا کرتے تھے، وہ مرگِ بستر پر آتے ہی آنسوؤں سے باتیں کرتے امداد کے طلبگار ہو جاتے ہیں۔ کتنے ہی ایسے شاہکار تھے جنہیں زمین کا معدہ پانی کی طرح پی گیا اور زمانہ دیکھتا کا دیکھتا ہی رہ گیا۔ اور کئی ایسے بڑے تخلیق کار جو ساری زندگی فن فروشی سے بچتے ہوئے فاقوں میں زندگی گزار گئے، ان کے چلے جانے کے بعد ان کی تخلیقات نے ان کو ایسا زندہ کیا کہ لوگ انہیں مل نہ سکنے پر پچھتاتے ہیں۔ رائٹر کو اپنی تحریروں جیسا تو ہونا چاہیے۔
