پاکستان ایک نئے تزویراتی امتحان کے دہانے پر، صومالیہ اسلام آباد کی نئی دفاعی سمت کیوں بن رہا ہے؟

صومالیہ سے بحیرہ احمر تک، پاکستان کے نئے علاقائی کردار کا آغاز
تجزیہ: گرجیت سنگھ (Gurjit Singh)
ترجمہ و ترتیب: کیو این این ورلڈ

پاکستان کا صومالیہ کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھانے کا فیصلہ بظاہر ایک محدود نوعیت کے فوجی تربیتی معاہدے کی صورت میں نظر آتا ہے، تاہم اس کے ممکنہ اثرات اس سے کہیں زیادہ وسیع ہو سکتے ہیں۔ 4 اگست کو اسلام آباد میں طے پانے والے دفاعی تعاون کے معاہدے میں دہشت گردی کے خلاف اقدامات، فوجی تربیت، دفاعی وفود کے تبادلے اور دفاعی صلاحیتوں میں اضافے جیسے شعبے شامل ہیں۔ اس معاہدے کے صرف تین دن بعد پاکستان نے سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ بھی کیا، جس کا مقصد اجتماعی سلامتی کے لیے ایک نئے تعاون کے فریم ورک کو تشکیل دینا ہے۔

ان دونوں پیش رفتوں کا وقت خاص اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان روایتی طور پر ہارن آف افریقہ (Horn of Africa) میں کسی بڑے سکیورٹی کردار کا حامل ملک نہیں رہا، لیکن صومالیہ ایک ایسے جغرافیائی مقام پر واقع ہے جہاں خلیج، بحیرہ احمر اور مغربی بحر ہند ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ یہی وہ خطہ ہے جہاں سعودی عرب اور ترکیہ اپنے تزویراتی اثر و رسوخ کو بڑھا رہے ہیں، جبکہ بعض معاملات میں ان کے مفادات متحدہ عرب امارات کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے بھی مقابلہ کر رہے ہیں۔

اس تناظر میں پاکستان کے لیے صومالیہ کی اہمیت صرف صومالیہ تک محدود نہیں بلکہ یہ اس بات سے جڑی ہوئی ہے کہ اسلام آباد مغربی بحر ہند اور بحیرہ احمر کے ابھرتے ہوئے سکیورٹی نظام میں اپنے لیے کیا کردار متعین کرنا چاہتا ہے۔

پاکستان کا صومالیہ کے ساتھ تعلق نیا نہیں ہے۔ 1990 کی دہائی کے آغاز میں اقوام متحدہ کے صومالیہ مشن میں پاکستانی فوج نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ پاکستانی فوجی 1995 میں موغادیشو سے واپس جانے والے آخری بین الاقوامی دستوں میں شامل تھے۔ تاہم اس تاریخی کردار کو موجودہ صورتحال کے تناظر میں بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ پاکستان افریقی یونین کے صومالیہ مشن AMISOM یا بعد کے مشن ATMIS میں بڑے فوجی معاونین میں شامل نہیں رہا۔ اسی طرح القاعدہ سے منسلک شدت پسند تنظیم الشباب کے خلاف طویل جنگ میں بھی بنیادی کردار افریقی ممالک نے ادا کیا۔

گزشتہ دو دہائیوں کے دوران صومالیہ میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کا زیادہ تر بوجھ یوگنڈا، برونڈی، کینیا، ایتھوپیا اور جبوتی جیسے افریقی ممالک نے اٹھایا۔

موجودہ صورتحال میں پاکستان صومالیہ کو ایک ایسے فوجی نظام کی پیشکش کر سکتا ہے جس کے پاس انسداد شورش، دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں، پیشہ ورانہ فوجی تربیت اور دفاعی شعبے میں تجربہ موجود ہے۔ ایک ایسی صومالی فوج کے لیے جو ابھی دوبارہ تعمیر کے مرحلے میں ہے، پاکستان کی یہ صلاحیتیں خاص اہمیت رکھتی ہیں۔

یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ صومالیہ پاکستان کے جے ایف-17 تھنڈر لڑاکا طیاروں میں دلچسپی رکھتا ہے، جبکہ بعض رپورٹس میں سعودی عرب اور ترکیہ کی ممکنہ حمایت کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اگرچہ کسی حتمی معاہدے کے سامنے آنے تک ان اطلاعات کو احتیاط سے دیکھنے کی ضرورت ہے، لیکن یہ امکان پاکستان کی وسیع تر حکمت عملی کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ دفاعی تعاون کے ذریعے صومالیہ کے لیے مفید شراکت دار بننے کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کے لیے اپنی تزویراتی اہمیت بھی بڑھا سکتا ہے۔

پاکستان کے صومالیہ منصوبے میں سعودی عرب کا کردار سب سے اہم پہلو ہے۔ ریاض حالیہ برسوں میں بحیرہ احمر کی سلامتی، بحری راستوں کے تحفظ اور ہارن آف افریقہ میں اپنے تزویراتی کردار کو بڑھانے پر توجہ دے رہا ہے۔ سعودی عرب کی دلچسپی صرف دہشت گردی کے خطرے تک محدود نہیں بلکہ اس کی توجہ باب المندب آبنائے، جزیرہ نما عرب کے قریب بحری راستوں اور خطے میں طاقت کے توازن پر بھی ہے۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ریاض کو دو ایسے شراکت دار فراہم کرتا ہے جن کی صلاحیتیں مختلف ہونے کے باوجود ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں۔ ترکیہ جدید دفاعی صنعت، ڈرون ٹیکنالوجی، بحری صلاحیتوں اور افریقہ میں بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا حامل ہے، جبکہ پاکستان ایک بڑی فوج، جنگی تجربے، تربیتی صلاحیتوں اور سعودی عرب کے ساتھ دیرینہ دفاعی تعلقات رکھتا ہے۔

اسلام آباد کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ اپنے روایتی دفاعی تعلقات کو وسیع تر جغرافیائی اور سیاسی اہمیت میں تبدیل کرے۔ ماضی میں پاکستان سعودی عرب سے اقتصادی اور سیاسی تعاون حاصل کرتا رہا ہے، تاہم اب ریاض اپنے شراکت داروں سے توقع کرتا ہے کہ وہ علاقائی سلامتی میں بھی اپنا کردار ادا کریں۔

تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان صومالیہ میں الشباب کے خلاف جنگ کے لیے بڑی تعداد میں فوجی دستے بھیجے گا۔ پاکستان کے پاس نہ تو اس کے لیے کوئی بڑی تزویراتی ضرورت ہے اور نہ ہی وسائل کہ وہ ایک اور بڑے بیرون ملک فوجی مشن کا حصہ بنے۔ زیادہ امکان یہی ہے کہ پاکستان کا کردار تربیت، دفاعی مشاورت، فوجی نظریات کی منتقلی، آلات کی فراہمی اور ممکنہ فضائی و بحری تعاون تک محدود رہے گا۔

پاکستان کے لیے صومالیہ کی اہمیت کا ایک پہلو بحری سلامتی بھی ہے۔ پاکستان پہلے ہی مشترکہ بحری افواج کے ساتھ بحری قزاقی کے خاتمے اور سمندری تحفظ کے مشن میں شریک ہے۔ خلیج عدن اور بحیرہ عرب پاکستان کے بحری مفادات کے اہم حصے ہیں، جبکہ صومالیہ پاکستان کو بحیرہ عرب کے مفادات اور بحیرہ احمر کی وسیع تر سکیورٹی صورتحال کے درمیان ایک جغرافیائی رابطہ فراہم کرتا ہے۔

تاہم پاکستان کو اس نئی سمت میں انتہائی احتیاط سے آگے بڑھنا ہوگا۔ ہارن آف افریقہ پہلے ہی کئی عالمی اور علاقائی طاقتوں کی مسابقت کا مرکز بن چکا ہے، جہاں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکیہ، قطر، مصر، امریکا اور چین سمیت کئی ممالک اپنے اپنے مفادات کے لیے سرگرم ہیں۔

پاکستان کے لیے سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ صومالیہ میں بڑھتا ہوا کردار اسے مستقبل میں سوڈان، لیبیا یا دیگر عرب افریقی تنازعات میں بھی کردار ادا کرنے کی توقعات کے سامنے لا کھڑا کرے۔ پاکستان کے پاس نہ تو مالی صلاحیت ہے اور نہ ہی سفارتی آزادی کہ وہ ہر محاذ پر کسی دوسرے ملک کی علاقائی حکمت عملی کا حصہ بن جائے۔

اس کے باوجود صومالیہ پاکستان کے لیے ایک اہم موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ پاکستان طویل عرصے سے سعودی عرب کے ساتھ اپنے دفاعی تعلقات کو وسیع اقتصادی اور سیاسی اثر و رسوخ میں تبدیل کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ ہارن آف افریقہ اسے ایک ایسے خطے میں داخل ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے جو عالمی تجارت، توانائی کے راستوں اور بحری سلامتی کے اعتبار سے انتہائی اہم ہے۔

اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان الشباب کے خلاف جنگ میں شریک ہوگا یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اسلام آباد دفاعی سفارت کاری کو اپنی وسیع تر جغرافیائی سیاسی پوزیشن مضبوط بنانے کے لیے استعمال کرنا شروع کر رہا ہے؟ صومالیہ کے ساتھ دفاعی معاہدہ اس بات کا اشارہ دیتا ہے کہ پاکستان اپنی خارجہ اور دفاعی پالیسی میں ایک نئے دائرے کی طرف بڑھ رہا ہے۔

پاکستان کے لیے اصل امتحان یہ ہوگا کہ وہ اس موقع کو تزویراتی اثر و رسوخ میں تبدیل کرے، نہ کہ کسی دوسرے ملک کے علاقائی مفادات پر انحصار میں۔ اسلام آباد کو ہارن آف افریقہ میں ایک آزاد شراکت دار کے طور پر اپنا کردار بنانا ہوگا، نہ کہ صرف کسی علاقائی اتحاد کے فوجی بازو کے طور پر۔

صومالیہ کے لیے پاکستانی تعاون سکیورٹی شراکت داری کو متنوع بنا سکتا ہے، سعودی عرب کے لیے پاکستان ایک اہم فوجی شراکت دار ثابت ہوسکتا ہے، جبکہ ترکیہ کے لیے یہ ایک نئے خطے میں تعاون کا راستہ کھولتا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ موقع خلیج، بحیرہ احمر اور مغربی بحر ہند کو جوڑنے والے ایک نئے تزویراتی کردار کا دروازہ کھول سکتا ہے۔

نوٹ: یہ تجزیاتی مضمون بھارتی نیوز ویب سائٹ Firstpost پر مصنف گرجیت سنگھ (Gurjit Singh) کے نام سے شائع ہوا۔ مصنف ایتھوپیا، جبوتی اور افریقی یونین میں سفیر رہ چکے ہیں۔ مضمون میں ظاہر کیے گئے خیالات مصنف کے ذاتی ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Firstpost کی ادارتی پالیسی یا مؤقف کی عکاسی کرتے ہوں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے